خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 589
خطبات طاہر جلد ۱۰ 589 خطبہ جمعہ ۱۲ جولائی ۱۹۹۱ء اور یہ دونوں چیزیں بیرونی اثرات سے رفتہ رفتہ بنتی ہیں اور اندرونی قابلیتوں کے اوپر جب بیرونی اثرات اپنی روشنی ڈالتے ہیں تو ان کے نتیجہ میں اندر سے ایک روشنی پیدا ہوتی ہے۔ اسی طرح جب بیرونی اندھیرے اندر کے اندھیروں پر اپنا اثر ڈالتے ہیں تو اندر سے ایک اور تاریکی پیدا ہوتی ہے۔ پس ذہنی تاریکیاں ہوں یا قلبی تاریکیاں ہوں، ذہنی روشنیاں ہوں یا قلبی روشنیاں ہوں یہ دو دروازے ہر انسان کے اندر کھلے رہتے ہیں ۔ پس قرآن کریم نے جب فرمایا کہ سات دروازوں سے تم لوگ جہنم میں داخل کئے جاؤ گے تو مراد یہ ہے کہ اندر کے شیطان انسانی نفس کے ساتھ لگے ہوئے جو شیطان ہیں یہ سب سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں ان میں سے زبان ، آنکھ، ناک وغیرہ یہ جتنے بھی حواس خمسہ کے دروازے ہیں ان پر اگر انسان قابو پالے اور ان کو خدا کے سپرد کر دے تو پھر اندر کے دو دروازے بھی واقعہ خدا کے سپرد ہو جاتے ہیں یعنی ذہن کا دروازہ اور دل کا دروازہ ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسے لوگ وہ ہیں جو مخلصین ہیں ۔ جن کو اللہ کے لئے خالص کر دیا گیا ہے ان پر کسی ابلیس کو کوئی تسلط نہیں ہو سکتا۔ یہ مضمون سمجھنے کے بعد یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہ کتنا مشکل کام ہے اور خدا تعالیٰ نے صراط مستقیم کی یہ تعریف فرمائی ہے کہ یہ صراط مستقیم ہے جہاں یہ سب کچھ ہوتا ہے اور روز پانچ وقت پانچ نمازوں میں ہر رکعت میں ہم یہ دعا کرتے ہیں کہ ہمیں صراط مستقیم پر چلا ۔ کیسی صراط مستقیم ہے جہاں نیک بھی چلتے ہیں، بد بھی چلتے ہیں ٹھوکریں کھانے والے لوگ بھی ہیں، بچ کر نکل جانے والے لوگ بھی ہیں ۔ اکثر وہ ہیں جو رستہ کھودیں گے۔ کم وہ ہیں جو خوش نصیب ہیں اور جو آخر منزل تک پہنچیں گے ان سب کے مضامین قرآن کریم نے تفصیل سے کھول کر ہمارے سامنے رکھے ۔ تمام دعائیں ہمیں سکھائیں اور ان بدعاؤں سے ہمیں متنبہ کیا جو الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ اور الضَّالِّينَ کی دعائیں ہیں لیکن وہ بھی صراط مستقیم پر ہی آپ کو ملتی ہیں لیکن وہ صراط جو سیدھی خدا تک پہنچا دیتی ہے وہ عبد اللہ مخلصین کی راہ ہے اور ان ہی کی دعائیں کرتے ہوئے ہمیں ان رستوں پر آگے بڑھنا چاہئے اور جو جو ٹھوکریں خدا تعالیٰ نے ہم پر کھول دی ہیں ان سے بچنے کی کوشش کرتے رہنا چاہئے لیکن اس یقین کے ساتھ کہ اپنی کوشش سے کوئی انسان نیک نہیں ہو سکتا جب تک دعا کے ذریعے اسے توفیق نہ ملے اور دعا کی قبولیت کے لئے ضروری ہے کہ دل سے ایک خالص آواز اس دعا کی قبولیت کے لئے اٹھے عام دعاؤں کے لئے تو دل سے خالص