خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 547
خطبات طاہر جلد ۱۰ 547 خطبه جمعه ۲۸ جون ۱۹۹۱ء گمراہی پھیلانے کے سوائے بدیاں پھیلانے کے اور کوئی کام نہیں کریں گے، اور ایسے بچے جنہیں گے جو گمراہی میں بڑھتے چلے جائیں گے رَبِّ اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَی (نوح:۲۹) اے میرے رب میری بھی بخشش فرما میرے والدین سے بھی بخشش کا سلوک فرما وَ لِمَنْ دَخَلَ بَيْتِيَ مُؤْمِنًا اور ہر اس شخص کو بھی بخش دے جو میرے گھر میں ایمان لاتے ہوئے داخل ہو۔ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنتِ سب مومنوں کو بخش اور سب مومنات کو بخش وَلَا تَزِدِ الظَّلِمِينَ إِلَّا تَبَارًا اور دشمنوں کو سوائے ہلاکت کے اور کچھ نصیب نہ ہو۔ ۔ یہ وہ دعا ہے جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے پھر وہ مشہور بارش برسائی اور زمین نے اپنے چشمے اگلے یہاں تک کہ طوفان نوح آیا ۔ وہ عظیم سیلاب جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس نے ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا مگر میں پہلے بیان کر چکا ہوں کہ قرآن سے قطعی طور پر ثابت ہے کہ یہ سیلاب ساری دنیا میں نہیں آیا بلکہ صرف نوح کی قوم پر آیا ہے جو کہ ایک محدود علاقہ میں بستی تھی اور صرف وہی لوگ ہلاک کئے گئے جن کا ذکر ان آیات میں ملتا ہے جن کو حضرت نوح علیہ السلام نے کامل طور پر پیغام پہنچا دیا تھا اور اس پیغام کو ہر طرح سے ہر پہلو سے سننے اور سمجھنے کے باوجود انہوں نے حضرت نوح کا انکار کیا۔ یہاں ایک خاص مسئلہ بھی حل ہو جاتا ہے ۔ لوگ کہتے ہیں کہ قانون قدرت بارشیں برساتا ہے اور قانون قدرت ہی ہے جس کے نتیجہ میں بعض دفعہ زمین سے چشمے ابلنے لگتے ہیں تو کیسے کہا جاسکتا ہے کہ عذاب الہی ہے اور کیا خدا تعالیٰ اپنے قانون کو تبدیل کر کے خصوصیت کے ساتھ نئے قانون جاری فرماتا ہے۔ حضرت نوح علیہ السلام کی اس تبلیغ میں اس مسئلہ کا حل ملتا ہے ۔ حضرت نوح علیہ السلام نے کہا يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَارًا (نوح:۱۲) کہ تم پر خدا کثرت سے بارشیں نازل فرمائے گا یعنی بارشوں کا نازل ہونا معلوم ہوتا ہے مقدر تھا اور غیر معمولی طور پر بارشوں کا اس علاقہ میں برسنا پہلے سے ہی مقدر ہو چکا تھا اور اس کی تیاریاں ہو چکی تھیں لیکن ساتھ ہی بتایا کہ یہ بارشیں ہلاکت کی نہیں ہوں گی ۔ قانون قدرت تو ہے مگر اللہ تعالی جس طرح چاہے قانون قدرت کو استعمال فرماتا ہے۔ وہ بارشیں نازل فرمائے گا کس لئے ؟ وَ يُمْدِدْكُمْ بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ ( نوح : ۱۳) وہ بارشیں تمہارے لئے کثرت اموال کا موجب بنیں گی اور کثرت اولاد کا موجب بنیں گی اور تمہارے اور