خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 546
خطبات طاہر جلد ۱۰ 546 خطبه جمعه ۲۸ جون ۱۹۹۱ء عَصَونِي وَاتَّبَعُوا مَنْ لَمْ يَزِدْهُ مَالُهُ وَوَلَدُهُ إِلَّا خَسَارًا (نوح:۲۲) اے میرے خدا یہ سب کچھ کرنے کے باوجود إِنَّهُمْ عَصَونِی یہ پھر بھی میرا انکار کرتے چلے جارہے ہیں وَاتَّبَعُوا اور اس کی پیروی کرتے ہیں مَنْ لَّمْ يَزِدْهُ مَالُهُ وَوَلَدُةَ ایسے ظالموں کی پیروی انہوں نے کی ہے جن کو ان کے مال نے اور ان کی اولاد نے گھاٹے کے سوا کچھ نہیں دیا۔ یعنی ایسے دنیا والے امیروں کی پیروی کرتے ہیں ۔ ایسی طاقتور قوموں کے پیچھے لگ گئے ہیں جن کے متعلق یہ دیکھ رہے ہیں کہ آخران کا قدم گھاٹے کی طرف اور نقصان کی طرف ہے وَمَكَرُوا مَكْرًا كَبَّارًا (نوح : ۲۳) اور میری نیکیوں کے جواب میں یہ اپنے مکر میں بڑھتے چلے گئے یہاں تک کہ بہت بڑے مکر میرے خلاف استعمال کئے وَقَالُوا لَا تَذَرُنَّ الهَتَكُمْ وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَلَا سُوَاعًا وَلَا يَغُوْثَ وَيَعُوقَ وَنَسْرا (نوح : ۲۴) اور ان کے لیڈروں نے ان میں بار بار اعلان کئے کہ ہر گز تم نے اپنے معبودوں کو نہیں چھوڑنا نہ تم و کو چھوڑو گے نہ سُوَاعًا کو چھوڑو گے نہ يَغُوث کو چھوڑو گے نہ سرا کو چھوڑو گے ۔ وَقَدْ أَضَلُّوا كَثِيرًا ( نوح : ۲۵) اور انہوں نے بہت لوگوں کو گمراہ کر دیا ہے وَلَا تَزِدِ الظَّلِمِينَ إِلَّا ضَللا اور تو نہیں بڑھاتا ان لوگوں کو جو گمراہ ہو گئے ہیں مگر گمراہی میں ہی۔ یعنی تیری تقدیر اسی طرح کارفرما ہوتی ہے کہ جولوگ گمراہی میں بڑھنے پر ضد کرتے ہیں تو ان کو پھر موقع دیتا ہے کہ وہ گمراہی میں آگے بڑھتے چلے جائیں۔ مِمَّا خَطِيتِهُم أَغْرِقُوا فَأَدْخِلُوا نَارًا فَلَمُ يَجِدُوا لَهُمْ مِّنْ دُونِ اللهِ أَنْصَارًا ( نوح: ۲۶) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے پس ان کی خطیئات کی وجہ سے بے شمار گناہوں کی وجہ سے وہ آگ میں داخل کئے گئے فَلَمْ يَجِدُوا لَهُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ انصارا اور خدا کے سوا ان کو کوئی مددگار پھر نظر نہ آیا یعنی کوئی مددگار ان کے کام نہیں آسکتا تھا۔ وَقَالَ نُوحٌ رَبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَفِرِينَ دَيَّارًا (نوح:۲۷) تب نوح نے کہا اے خدا اب کافروں میں سے اس زمین پر کوئی باقی نہ چھوڑ ۔ یہ جو دعا ہے یہ سب کچھ کرنے کے بعد کی دعا ہے اس سے پہلے کی نہیں ہے اور اس کی وجہ بیان کی گئی ہے۔ إِنَّكَ إِنْ تَذَرْهُمْ يُضِلُّوا عِبَادَكَ وَلَا يَلِدُوا إِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا ( نوح: (۲۸) کہ اب اس قوم کی حالت ایسی ہو چکی ہے کہ اگر ان کو زمین پر تو باقی چھوڑے گا تو یہ سوائے