خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 307
خطبات طاہر جلد ۱۰ 307 خطبہ جمعہ ۱۲ / اپریل ۱۹۹۱ء میری آواز پر بھی تو کان دھرا کریں۔ یہ نہ ہو کہ یک طرفہ مجھے بلاوے بھیجتے رہیں اور جب میں ان کو بلاؤں تو وہ پیچھے ہٹ جائیں وَلْيُؤْمِنُوا وَلْيُؤْمِنُوا لی اور وہ مجھ پر سچا ایمان رکھیں لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ تا کہ وہ ہدایت پائیں اور کامیاب ہوں۔ یہ رشد کا رستہ قبولیت دعا کا رستہ ہے جو خدا تعالیٰ نے ہمیں تفصیل سے سمجھایا کہ وہ کونسا رستہ ہے اور کیسے لوگ ہیں جو اس رستے پر چلتے ہیں تو ان کی دعائیں قبول ہوتی ہیں ۔ قرآن کریم کی سورتیں اگر چہ اس ترتیب سے نہیں ہیں جس ترتیب سے یہ نازل ہوئیں لیکن جو ترتیب وحی الہی کے مطابق مقرر ہوئی اور جس ترتیب کے ساتھ ہم قرآن کریم کو آج پاتے ہیں اس ترتیب میں گہری حکمتیں ہیں اور مضمون کا تسلسل ہے۔ پس دعاؤں کے تسلسل میں بھی خدا تعالیٰ نے بعض گہری حکمتوں کو پیش نظر رکھا ہے اس لئے میں ترتیب کو مضامین کے لحاظ سے بدلنے کی بجائے بعینہ اسی طرح آپ کے سامنے رکھتا ہوں جس طرح قرآن کریم نے پیش فرمائی ہے۔ سب سے پہلی دعا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بیان ہوئی ہے اور ظاہر ہے کہ اس کی کیا اہمیت ہے۔ آپ ابوالا نبیاء ابوالانبیاء کہلاتے ہیں ۔ ہیں یعنی وہ عظیم الشان نبیوں کا سلسلہ جس پر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ پیدا ہوئے اس کے جدامجد حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام تھے۔ فرمایا۔ وَإِذْ قَالَ ابْرُهُمُ رَبِّ اجْعَلْ هُذَا بَلَدًا مِنَّا وَارْزُقْ أَهْلَهُ مِنَ الثَّمَرَتِ مَنْ آمَنَ مِنْهُمْ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ قَالَ وَمَنْ كَفَرَ فَأُمَتِّعُهُ قَلِيلًا ثُمَّ أَضْطَرُّهُ إِلَى عَذَابِ النَّارِ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ وَإِذْ يَرْفَعُ إِبْرَاهِمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَاسْمَعِيلُ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِنَا أُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ وَارِنَا مَنَاسِكَنَا وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمُ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمُ ايَتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (البقره: ۱۲۷ تا ۱۳۰) عليسة وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِمُ رَبِّ اجْعَلْ هُذَا بَلَدًا مِنَّا یہ اس وقت کی دعا ہے جبکہ