خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 306
خطبات طاہر جلد ۱۰ 306 خطبہ جمعہ ۱۲ اپریل ۱۹۹۱ء کی گہرائیوں سے اٹھی ہوئی بے ساختہ دعاؤں کو قبول فرمایا اور ان کے ذکر کو بڑے پیار کے ساتھ قرآن کریم میں محفوظ فرمادیا ۔ دنیا کی کوئی کتاب ایسی نہیں اور میں پھر اس بات کا اعادہ کرتا ہوں کہ دنیا کی کوئی کتاب ایسی نہیں جس نے تمام انبیاء کی دعاؤں کا خلاصہ اس شان کے ساتھ ، اس حفاظت کے ساتھ پیش کیا ہو جس طرح قرآن کریم نے پیش کیا ہے۔ ہر قسم کی ضرورت کی دعا کے بہترین نمونے محفوظ کر دیئے۔ پس وہ لوگ جو یہ دعا مانگتے ہیں اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ ان کے لئے ضروری ہے کہ اس دعا کی اگلی شاخوں سے بھی واقف ہوں ۔ یہ دعا جو آگے دعا ئیں پیدا کرتی ہے اور جن کے بغیر یہ سفر طے ہونا ممکن نہیں ہے ان دعاؤں پر نظر رکھیں، ان کے پس منظر سے واقف ہوں ۔ ان کیفیتوں سے آشنا ہوں جن کیفیتوں میں وہ دعائیں مانگی گئی تھیں ۔ جوں جوں ہم اس مضمون میں آگے بڑھیں گے یہ مضمون : دن جو بہت ہی مشکل دکھائی دیتا ہے آسان ہوتا چلا جائے گا اور ان مشکلات میں سے لذت پھوٹنے لگے گی۔ پس اس لحاظ سے میں قرآن کریم کی دعائیں آپ کے سامنے رکھتا ہوں جو اسی ترتیب سے ہیں جس ترتیب سے قرآن کریم میں بیان ہوئی ہیں ۔ میں نے ان کو مضمون وارا لگ الگ نہیں کیا لیکن اس سے پہلے میں یہ بتا دوں کہ ان دعاؤں کے متعلق خدا کا جو وعدہ ہے کہ میں قبول کرتا ہوں وہ وعدہ در حقیقت ایسی ہی دعاؤں کے متعلق ہے جن کا ذکر آنے والا ہے ورنہ بسا اوقات انسان اس مخمصے میں پھنس جاتا ہے کہ خدا نے تو وعدہ کیا ہے کہ میں دعا ئیں قبول کرتا ہوں اور میں بڑی دیر سے دعا کر رہا ہوں کہ یہ کر دے وہ کر دے ۔ یہ دے دے وہ دے دے اور مجھے جواب نہیں ملتا تو اس آیت کو جو میں آپ کے سامنے پڑھتا ہوں ان دعاؤں کے مضمون کے ساتھ ملا کر سمجھیں تو پھر آپ کو پتا چلے گا کہ کون سی دعا میں مقبول ہوتی ہیں اور کون سی مقبول نہیں ہوتیں ۔ فرمایا : وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ (البقره: ۱۸۷) کہ اے ! محمد اللہ جب میرے بندے تجھ سے میرے بارے میں سوال کریں تو اِنِّي قَرِيبٌ ۔ میں قریب ہوں ۔ أَجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ ہر پکارنے والے کی پکار کو سنتا ہوں جب وہ مجھے بلاتا ہے لیکن ایک شرط کے ساتھ فَلْيَسْتَجِبوالی میری باتوں کا بھی تو جواب دیا کریں