خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 57
خطبات طاہر جلد اول 57 خطبہ جمعہ ۶ ارجولائی ۱۹۸۲ء گی ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔ خطبہ ثانیہ کے دوران حضور نے فرمایا : گزشتہ جمعہ میں نے تحریک کی تھی جماعت کے سامنے ایک خاص دعا کی ، کہ بہت سے مقدمات ہیں جن میں معصوم احمدی یا جماعت من حيث الجماعت ملوث کی گئی ہے اور بڑی دیر سے وہ جماعت کے لئے اور ان افراد کے لئے پریشانی کا موجب بنے ہوئے ہیں ان کیلئے خاص طور پر دعا کریں۔ اس وقت ایک خاص مقدمہ بھی میرے ذہن میں تھا، اور خاص طور پر میرے پیش نظر تھا جو چند دن تک پیش ہونے والا تھا اور اس کے لئے خاص طور پر گھبراہٹ اور پریشانی تھی۔ تو میں آپ کو مبارکباد دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعاؤں کو سنا اور اپنے فضل سے اس مقدمے میں اس ملوث مخصوم شخص کو نجات بخشی ۔ بہت اللہ تعالیٰ کا شکر کریں ۔ لَبِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ (ابراہیم (۸) کا وعدہ حاصل کرنے کے لئے ۔ اتنا شکر کریں اس مقدمے کے متعلق کہ جس طرح وہ بادشاہ جس کے سامنے ایک شخص حکمت کے ساتھ باتیں کر رہا تھا تو ہر دفعہ اس کے منہ سے زہ نکل جاتا تھا اور ہر دفعہ زہ نکلنے کے اوپر اس کا وزیر اس کو اشرفیوں کی تھیلی دے دیتا تھا۔ یہ اتنی دفعہ ہوا کہ بادشاہ نے وزیر سے کہا یہ اتنا حکیم ، اتنا عقل والا انسان ہے کہ اگر میں اس کے پاس اور ٹھہرا رہا تو میرا خزانہ خالی ہو جائے گا۔ میرے منہ سے زہ نکلنا ہی نکلنا ہے یعنی تعریف کا کلمہ کہ کمال کر دیا تو نے اور حکم یہ تھا وزیر کو کہ جب 'زہ کہوں اس کو اشرفیوں کی تھیلی دیدو۔ اس نے کہا چلو ، رخصت ہوں اور اور نہ یہ بوڑھا ہمیں لوٹ لے گا۔ ورنہ پس آپ شکر کریں خدا کا ، ایسا شکر کہ ہر دفعہ رحمت باری کے منہ سے زۂ نکلے۔ لیکن یہ میں آپ کو بتاتا ہوں کہ خدا کی رحمتوں کو کوئی لوٹ نہیں سکتا۔ اس کو یہ جگہ چھوڑ کر جانے کی کوئی ضرورت نہیں وہ تو نہ ختم ہونے والے خزانے ہیں ۔ ازلی ابدی طور پر اگر ساری مخلوقات خدا کے پیار کو حاصل کر کے اس کی رحمت سے زہ کا ہدیہ وصول کرتی رہیں تب بھی اس کے خزانے ختم نہیں ہوں گے۔ پس اس یقین کامل کے ساتھ اپنے شکر کے مقام کو بڑھائیں۔ تاکہ لَا زِيدَنَّكُمْ وعدہ ہمارے حق میں ہمیشہ پورا ہوتا رہے۔ آمین خطبہ ثانیہ کے بعد فرمایا: احباب صفیں درست کر لیں اور شانے سے شانہ ملائیں۔ روزنامه الفضل ربوہ ۲۷ جولائی ۱۹۸۲ء)