خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 56
خطبات طاہر جلد اول 56 خطبہ جمعہ ۶ ارجولائی ۱۹۸۲ء یہی ہوگا کہ اگر کسی احمدی کو منصب خلافت کا احترام نہیں ہے ، اس سے سچا پیار نہیں ہے، اس سے عشق اور وارفتگی کا تعلق نہیں ہے اور صرف اپنی ضرورت کے وقت وہ دعا کے لئے حاضر ہوتا ہے تو اس کی دعائیں قبول نہیں کی جائیں گی ۔ یعنی خلیفہ وقت کی دعا ئیں اس کے لئے قبول نہیں کی جائیں گی ۔ اسی کیلئے قبول کی جائیں گی جو خاص اخلاص کے ساتھ دعا کیلئے لکھتا ہے اور اس کا عمل ثابت کرتا ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے اس عہد پر قائم ہے کہ جو نیک کام آپ مجھے فرمائیں گے ان میں میں آپ کی اطاعت کروں گا ۔ ایسے مطیع بندوں کے لئے تو بعض دفعہ ہم نے یہ نظارے دیکھے، ایک دفعہ نہیں بسا اوقات یہ نظارے دیکھے کہ وہاں پہنچی بھی نہیں دعا، اور پھر بھی قبول ہو گئی ۔ ابھی لکھی جارہی تھی دعا تو اللہ تعالیٰ اس پر پیار کی نظر ڈال رہا تھا اور وہ دعا قبول ہورہی تھی ۔ بعض دفعہ دعا بنی بھی نہیں تو وہ دعا قبول ہو جاتی ہے۔ اس لئے یہ ایسا ایک بنیادی اصول ہے جس کو ہمیشہ ہر احمدی کو پیش نظر رکھنا چاہئے ۔ اگر حضرت محمد مصطفی ﷺ پر درود سچے دل اور پیار سے بھیجتا ہے اور وفا کا تعلق رکھتا ہے اپنے محبوب آقا سے ،تو آنحضرت ﷺ کی ساری دعا ئیں ہمیشہ کیلئے ایسے امتیوں کے لئے سنی جائیں گی۔ اور اگر وہ خلافت سے صلى الله ایسا تعلق رکھتا ہے اور پوری وفاداری کے ساتھ اپنے عہد کو نباہتا ہے اور اطاعت کی کوشش کرتا ہے تو اس کے لئے بھی دعا ئیں سنی جائیں گی بلکہ ان کہی دعا ئیں بھی سنی جائیں گی ۔ اس کے دل کی کیفیت ہی دعا بن جایا کرے گی۔ پس اللہ تعالیٰ جماعت کو حقیقت دعا کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ دعا کا مضمون تو بہت وسیع ہے لیکن صرف اسی پر میں اکتفا کرتا ہوں ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے رب سے سب سے پہلے وفا کا تعلق عطا کرے یعنی خود اپنی ذات سے وفا کا تعلق عطا کرے آمین۔ یہ جمعہ جمعۃ الوداع انہیں کیلئے برکت کا موجب ہے جو جمعہ کو وداع کہنے نہیں آئے بلکہ آج کے دن کے خاص ماحول کو بڑی حسرت کے ساتھ وداع کر رہے ہیں ۔ یہ انہیں کیلئے بابرکت ہوگا صرف جو مسجدوں کو وداع کہنے کے لئے نہیں آئے بلکہ اس مسجد کے آج کے خاص ماحول کو روتے ہوئے رخصت کرتے ہیں ورنہ وہ روز صبح ، شام پانچ وقت اپنے رب کے حضور حاضر ہوا کرینگے ۔ ہر اذان پر ان کا دل مچلا کرے گا۔ ہر دوسرے کام سے ان کو نفرت ہو جایا کریگی اور دل اٹک جائے گا مسجد میں اور چاہیں گے کہ وہ مسجد میں پہنچیں اور اپنے رب کے حضور حاضر ہوں ۔ آج کا جمعہ بھی ان کا جمعہ ہے۔ آج کی دعائیں بھی ان کی دعائیں ہیں۔ آج کی مسجد بھی ان کی مسجد ہے۔ اور یہ تینوں چیزیں ہمیشہ ان کے ساتھ وفا کریں