خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 38 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 38

خطبات طاہر جلد اول 38 خطبہ جمعہ ۱۹ جولائی ۱۹۸۲ء جماعتوں کے ہوں انہوں نے بڑی محنت اور خلوص کے ساتھ سارا سال کام کیا۔ محض اللہ وقت دیا اور سلسلہ کا روپیہ بڑھانے کی خاطر وقت دے کر انہوں نے اپنی بہت سی قیمتی آرزوئیں قربان کیں۔ ایک دفعہ میں کراچی میں تھا وہاں کسی کام کیلئے طارق روڈ گیا تو کراچی کا ایک بوڑھا، کمزور، ناتواں سلسلہ کا کارکن بڑے انہماک کے ساتھ کہیں جاتا ہوا دکھائی دیا۔ لوگ اپنی شاپنگ کے لئے یا اور نظاروں کے دیکھنے کی خاطر اور شام کی سیر کا لطف اٹھانے کے لئے چل رہے تھے ۔ مگر اس کا رکن کے چہرہ پر ایک خاص عزم تھا خاص مقصد تھا۔ یوں معلوم ہوتا تھا کہ کسی خاص ذمہ داری کا بوجھ لئے ہوئے جا رہے ہیں۔ تو پتہ چلا کہ سلسلہ کے کاموں میں منہمک کیڑیاں جو دنیا کی نظر میں کیڑیاں ہیں لیکن اللہ کی نظر میں بہت عظیم مقام رکھتی ہیں۔ ان کیڑیوں میں سے وہ ایک کیڑی تھا اور صرف اللہ کے کاموں میں مصروف تھا۔ چندہ لینے کے لئے یا کوئی اور پیغام دینے کیلئے وہ جا رہا تھا۔ پس ان سب کارکنان کا شکر واجب ہے دعا کی صورت میں ۔ خواہ مرکزی ہوں یا مقامی جماعتوں کے کارکنان ہوں سارا سال بہت محنت کرتے ہیں۔ بہت وقت خرچ کرتے ہیں۔ بہت دعائیں کرتے ہیں اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ یہ فضل عطا فرماتا ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ کی اس رحمت پر خوش ہیں، لیکن اگر ظاہری اعتبار سے دیکھا جائے تو اس روپیہ کی خواہ وہ ایک کروڑ تیس لاکھ ہو، خواہ دس کروڑ تیس لاکھ ہو ، کوئی بھی حیثیت نہیں ہے۔ روپیہ فی ذاتہ کوئی معنے نہیں رکھتا اور خاص طور پر اس دنیا میں جب کہ دنیا کی بڑی بڑی حکومتوں کے بجٹ اتنے زیادہ بڑھ چکے ہیں کہ عام انسان کا تصور بھی اس کو نہیں پہنچ سکتا۔ ذہن وہ اعدادو شمار ہی Grasp نہیں کر سکتا۔ اس کو اس کا ادراک حاصل نہیں ہو سکتا کہ یہ کتنی بڑی رقمیں ہیں جن کی باتیں ہو رہی ہیں۔ اس وقت یہ ایک کروڑ تھیں چھتیس لاکھ کا بجٹ کسی فخر کے ساتھ پیش کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا ۔ پھر ایک اور پہلو سے جب ہم دیکھتے ہیں تو اس کی حیثیت دنیوی پیمانوں کے لحاظ سے کچھ بھی باقی نظر نہیں آتی اور وہ یہ حیثیت ہے کہ صرف عیسائیت ۔ ساری عیسائیت نہیں ، صرف عیسائیت کے بعض فرقے ۔ اکیلے اکیلے ہی روزانہ اپنے مذہب کی تبلیغ پر جو خرچ کر رہے ہیں وہ ہمارے سال سے دسیوں گنا زیادہ ہے۔ دس کروڑ ہیں کروڑ تمہیں کروڑ روپیہ بلکہ اس سے بھی زانا