خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 232 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 232

خطبات طاہر جلد اول 232 خطبه جمعه ۲۹ راکتو بر ۱۹۸۲ء زاویے محدود ہیں ، نہ وہ نظارے محدود ہیں جو اس کلیڈ وسکوپ سے نظر آتے ہیں ۔ اور وہ کلیڈ وسکوپ سورہ فاتحہ ہے۔ مختلف زاویوں سے جب آپ سورہ فاتحہ کے رخ بدلتے ہیں اور مختلف جہتوں سے اس کا مطالعہ کرتے ہیں تو حیرت انگیز حسین نظارے دکھائی دیتے ہیں جو لا متناہی ہیں۔ ان کی کوئی حدوبست نہیں ۔ آج امت کو چودہ سو سال ہو چکے ہیں جب یہ سورۃ نازل ہوئی تھی بلکہ چودہ سو سال سے بھی کچھ زائد سال گذر چکے ہیں۔ اس عرصہ میں بے شمار علماء ربانی نے اس پر قلم اٹھایا۔ وہ اس کے نظاروں سے خود بھی محظوظ ہوئے اور دنیا کو بھی ان نظاروں میں شریک کیا۔ لیکن یہ خزانہ ختم ہونے میں نہیں آتا کیونکہ جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے یہ نظارے لامتناہی ہیں ۔ اس سورۃ کے آخر پر ایک دعا سکھائی گئی ہے ۔ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ کہ اے خدا ہمیں سیدھے راستہ کی ہدایت دے وہ راستہ جس پر انعام پانیوالے چلے تھے یا جس پر چل کر انعام ملتے ہیں ۔ ایسا راستہ نہ ہو جس راستہ پر غضب نازل ہوتا ہے یا کج فطرت لوگ دکھائی دیتے ہیں ۔ گمراہ لوگ دکھائی دیتے ہیں۔ ایسا راستہ ہم نہیں مانگتے۔ میں نے سوچا کہ ہم جب سیدھا راستہ مانگتے ہیں تو سیدھے راستہ پر تو انعام والے ہی ملنے چاہئیں۔ یہ مغضوب کا ذکر بیچ میں کہاں سے آگیا۔ اور ضالین سے بچنے کی دُعا کیوں سکھائی گئی۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے میری توجہ اس مضمون کی طرف پھیری کہ صراط مستقیم دراصل وہ راستہ ہے جو خدا تعالیٰ کی ہر مخلوق کو بالآخر اس تک پہنچائے گا۔ اور اس کی دو شکلیں ظاہر ہوتی ہیں ۔ ایک صراط مستقیم ہے جو منعم علیہ گروہ کا راستہ ہے اور دوسری وہ راہ ہے جس پر خدا کے وہ بندے چلتے ہیں جو مغضوب ہو جاتے ہیں یا گمراہ ہو جاتے ہیں اور ضالین کے زمرہ میں شمار کئے جاتے ہیں ۔ - چنانچہ اس مضمون پر غور کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے میری نگاہ صراط مستقیم کی شکل میں پہلی پر آیات کی طرف مبذول فرمادی ۔ در اصل الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ میں جس راستہ کا ذکر فرمایا گیا ہے، یہ حد کا رستہ ہے جو ملِكِ يَوْمِ الدین پر ختم ہوتا ہے۔ وہی صراط مستقیم ہے اور