خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 55
خطبات مسرور جلد 19 55 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 22 جنوری 2021ء آہستہ آہستہ نکلتے گئے۔یہ ہجرت کا سلسلہ ایسا شروع ہوا کہ بالآخر ان مہاجرین حبشہ کی تعداد ایک سو ایک تک پہنچ گئی جن میں اٹھارہ عورتیں بھی تھیں اور مکہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بہت ہی تھوڑے مسلمان رہ گئے۔اس ہجرت کو بعض مؤرخین ہجرت حبشہ ثانیہ کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔۔۔۔" پھر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب اپنا ایک تجزیہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ " ایک اور بات ہے جو اس افواہ اور مہاجرین کی واپسی کے قصہ کو سرے سے ہی مشتبہ کر دیتی ہے اور وہ یہ کہ تاریخ میں ہجرت حبشہ کے آغاز کی تاریخ رجب 5 / نبوی اور سجدہ کی تاریخ رمضان 5 / نبوی بیان ہوئی ہے اور پھر تاریخ میں ہی یہ بات بھی بیان ہوئی ہے کہ اس افواہ کے نتیجہ میں مہاجرین حبشہ کی واپسی شوال 15 نبوی میں ہوئی تھی۔گویا آغاز ہجرت اور واپسی مہاجرین کے زمانوں میں صرف دو سے لے کر تین ماہ کا فاصلہ تھا اور اگر سجدہ کی تاریخ سے زمانہ کا شمار کریں تو یہ عرصہ صرف ایک ہی ماہ کا بنتا ہے۔اب اس زمانہ کے حالات کے لحاظ سے یہ قطعی طور پر ناممکن ہے کہ مکہ اور حبشہ کے درمیان اس قلیل عرصہ میں تین سفر مکمل ہو سکے ہوں۔یعنی سب سے پہلے مسلمان مکہ سے حبشہ پہنچے۔اس کے بعد کوئی شخص قریش کے اسلام کی خبر لے کر مکہ سے حبشہ گیا اور پھر مسلمان حبشہ سے روانہ ہو کر مکہ میں واپس آئے۔ان تین سفروں کی تکمیل قطع نظر اس عرصہ کے جو زائد امور میں صرف ہو جاتا ہے " تیاری بھی ہوتی ہے اور چیزیں ہیں " اس قلیل عرصہ میں قطعانا ممکن تھی اور اس سے بھی زیادہ یہ بات نا ممکن تھی کہ سجدہ کے زمانہ سے لے کر مہاجرین حبشہ کی مزعومہ واپسی تک دو سفر مکمل ہو سکے ہوں کیونکہ اس زمانہ میں مکہ سے حبشہ جانے کے لئے پہلے جنوب میں آنا پڑتا تھا اور پھر وہاں سے کشتی لے کر جو ہر وقت موجود نہیں ملتی تھی بحر احمر کو عبور کر کے افریقہ کے ساحل تک جانا ہو تا تھا اور پھر ساحل سے لے کر حبشہ کے دارالسلطنت اکسوم تک جو ساحل سے کافی فاصلہ پر ہے پہنچنا پڑتا تھا اور اس زمانہ کے آہستہ سفروں کے لحاظ سے اس قسم کا ایک سفر بھی ڈیڑھ دوماہ سے کم عرصہ میں ہر گز مکمل نہیں ہو سکتا تھا۔اس جہت سے گویا یہ قصہ سرے سے ہی غلط اور بے بنیاد قرار پاتا ہے لیکن اگر بالفرض اس میں کوئی حقیقت تھی بھی تو وہ یقیناً اس سے زیادہ نہیں تھی جو اوپر بیان کی گئی ہے۔واللہ اعلم" (سیرت خاتم النبيين صفحه 146 تا152) بہر حال اس کی وجوہات جو بھی تھیں کچھ عرصہ کے بعد حضرت عثمان کی حبشہ سے واپسی ہو گئی اور پھر حضرت عثمان کی مدینہ کی طرف ہجرت اور مواخات کا ذکر اس طرح ملتا ہے کہ محمد بن جعفر بن زبیر سے روایت ہے کہ جب حضرت عثمان نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی تو آپ قبیلہ بنو نجار میں حضرت حسان بن ثابت کے بھائی حضرت اوس بن ثابت کے گھر ٹھہرے۔موسیٰ بن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان اور حضرت عبد الرحمن بن عوف کے مابین عقد مؤاخات قائم فرمایا تھا۔ایک روایت کے مطابق حضرت شداد بن اوس کے والد حضرت اوس بن ثابت اور حضرت عثمان کے مابین عقد مؤاخات قائم فرمایا گیا تھا اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حضرت ابو عبادہ سعد بن عثمان زرقی سے حضرت عثمان کا عقدِ مواخات قائم ہو ا تھا۔(الطبقات الكبرى لابن سعد، الجزء الثالث صفحه 31 ، ذكر اسلام عثمان بن عفان، دار احياء التراث العربى بيروت،1996ء)