خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 54
خطبات مسرور جلد 19 54 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 22 جنوری 2021ء آیات الہی کی تلاوت فرمائی اور وہ آیات بھی ایسی تھیں جن میں خصوصیت کے ساتھ خدا کی وحدانیت اور اس کی قدرت و جبروت کا نہایت فصیح و بلیغ رنگ میں نقشہ کھینچا گیا تھا اور اس کے احسانات یاد دلائے گئے تھے اور پھر ایک نہایت پر رعب و پر جلال کلام میں قریش کو ڈرایا گیا تھا کہ اگر وہ اپنی شرارتوں سے باز نہ آئے تو ان کا وہی حال ہو گا جو ان سے پہلے ان قوموں کا ہوا جنہوں نے خدا کے رسولوں کی تکذیب کی اور پھر آخر میں ان آیات میں حکم دیا گیا تھا کہ آؤ اور اللہ کے سامنے سجدہ میں گر جاؤ اور ان آیات کی تلاوت کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور سب مسلمان یکلخت سجدہ میں گر گئے تو اس کلام اور اس نظارہ کا ایسا ساحرانہ اثر قریش پر ہوا کہ وہ بھی بے اختیار ہو کر مسلمانوں کے ساتھ سجدہ میں گر گئے اور یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کیونکہ ایسے موقعوں پر ایسے حالات کے ماتحت۔۔۔۔بسا اوقات انسان کا قلب مرعوب ہو جاتا ہے اور وہ بے اختیار ہو کر ایسی حرکت کر بیٹھتا ہے جو دراصل اس کے اصول و مذہب کے خلاف ہوتی ہے۔ضروری نہیں ہوتا کہ اس کو مان کے یہ حرکت ہوئی ہو۔بے اختیاری میں بعض دفعہ حرکت ہو جاتی ہے۔بعض اوقات ایک سخت اور ناگہانی آفت کے وقت ایک دہر یہ بھی اللہ اللہ یا رام رام پکار اٹھتا ہے۔" میں نے بھی بعض دہریوں سے پوچھا ہے اور وہ کہتے ہیں یہ بالکل ٹھیک بات ہے کہ باوجود اس کے کہ ہمیں خدا پر یقین نہیں لیکن کوئی ایسی خطر ناک حالت ہو تو بے اختیار منہ سے خدا کا لفظ نکل آتا ہے۔تو بہر حال" اور قریش تو دہر یہ نہ تھے بلکہ بہر حال خدا کی ہستی کے قائل تھے۔پس جب اس پر رعب اور پر جلال کلام کی تلاوت کے بعد مسلمانوں کی جماعت یکلخت سجدہ میں گر گئی تو اس کا ایسا ساحرانہ اثر ہوا کہ ان کے ساتھ قریش بھی بے اختیار ہو کر سجدہ میں گر گئے لیکن ایسا اثر عموماً وقتی ہوتا ہے اور انسان پھر جلد ہی اپنی اصل کی طرف لوٹ جاتا ہے۔چنانچہ یہاں بھی ایسا ہی ہوا اور سجدہ سے اٹھ کر قریش پھر وہی بت پرست کے بت پرست تھے۔“ یہ نہیں کہ وہ موحد بن گئے تھے۔" بہر حال یہ ایک واقعہ ہے جو صحیح احادیث سے ثابت ہے۔پس اگر مہاجرین حبشہ کی واپسی کی خبر درست ہے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس واقعہ کے بعد قریش نے جو مہاجرین حبشہ کے واپس لانے کے لیے بیتاب ہو رہے تھے اپنے اس فعل کو آڑ بنا کر خود ہی یہ افواہ مشہور کر دی ہو گی کہ قریش مکہ مسلمان ہو گئے ہیں اور یہ کہ اب مکہ میں مسلمانوں کے لئے بالکل امن ہے اور جب یہ افواہ مہاجرین حبشہ تک پہنچی تو وہ طبعاً اسے سن کر بہت خوش ہوئے اور سنتے ہی خوشی کے جوش میں واپس آگئے لیکن جب وہ مکہ کے پاس پہنچے تو حقیقت امر سے آگاہی ہوئی جس پر بعض تو چھپ چھپ کر اور بعض کسی طاقتور اور صاحب اثر رئیس قریش کی حفاظت میں ہو کر مکہ میں آگئے اور بعض واپس چلے گئے۔پس اگر قریش کے مسلمان ہو جانے کی افواہ میں کوئی حقیقت تھی تو وہ صرف اسی قدر تھی جو سورۃ نجم کی تلاوت پر سجدہ کرنے والے واقعہ میں بیان ہوئی ہے۔واللہ اعلم۔بہر حال اگر مہاجرین حبشہ واپس آئے بھی تھے تو ان میں سے اکثر پھر واپس چلے گئے اور چونکہ قریش دن بدن اپنی ایذارسانی میں ترقی کرتے جاتے تھے اور ان کے مظالم روز بروز بڑھ رہے تھے۔اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد پر دوسرے مسلمانوں نے بھی خفیہ خفیہ ہجرت کی تیاری شروع کر دی اور موقع پاکر