خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 320 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 320

خطبات مسرور جلد 19 320 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 28 مئی 2021ء ایم ٹی اے سٹوڈیوز بن گئے ہیں جہاں سے ایم ٹی اے کے پروگرام جاری رہتے ہیں۔اب ایک جگہ سٹوڈیو نہیں ہر جگہ بن چکے ہیں، ہر جگہ تو نہیں لیکن کئی جگہ افریقہ میں بھی اور نارتھ امریکہ میں بھی اور یورپ میں بھی بن چکے ہیں۔اگر ہم اپنے وسائل کو دیکھیں تو یہ ممکن ہی نہیں ہے۔سوشل میڈیا کے ذریعہ بھی اسلام کا حقیقی پیغام پہنچ رہا ہے۔پاکستان کی حکومت نے اس پر مختلف طریقوں سے پابندی لگائی ہے تو دنیا کے دوسرے ممالک میں پہلے سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ نے راستے کھول دیے ہیں۔پھر اللہ تعالیٰ نے خلافت سے تعلق قائم کرنے کے لیے ایک نیارستہ بھی سمجھا دیا ہے جو آن لائن (online) ملاقات یاور چوکل(virtual) ملاقات کے ذریعہ سے اس کو وڈ کی بیماری کی وجہ سے سامنے آیا۔اس ذریعہ سے میٹنگیں بھی ہو رہی ہیں۔ملاقاتیں بھی ہو رہی ہیں جس سے بر اور است جماعتوں سے رابطہ ہو رہا ہے۔لوگ خلیفہ وقت سے براہ راست را ہنمائی لے رہے ہیں۔اپنے میں یہاں لندن سے کبھی افریقہ کے کسی ملک سے، کبھی انڈونیشیا سے، کبھی آسٹریلیا سے ، کبھی امریکہ سے ملاقات کر لیتا ہوں تو یہ سب خدا تعالیٰ کی تائیدات کے نظارے ہیں۔پس ہمیں کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ جو فضلوں کے نظارے دکھا رہا ہے اور خلافت کے انعام سے جو ہمیں نوازا ہو ا ہے اس کا ہم نے ہمیشہ حق ادا کرنے والا بننا ہے تاکہ قیامت تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق ہم اس نعمت سے فائدہ اٹھاتے رہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے تو اللہ تعالیٰ نے ترقیات کا وعدہ فرمایا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا لیکن ہمیں اس سے فیض پانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ہمیں اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بندہ بنتے ہوئے اُس کے آگے جھکنا ہو گا۔خلافت کی نعمت کا اظہار ہمارے ہر قول اور فعل سے ہونے کی ضرورت ہے۔خلافت سے کامل اطاعت کا عہد آخری سانس تک نبھانے کے لیے ہمیں ہر قربانی کے لیے تیار رہناچاہیے تبھی ہم قیامت تک اپنی نسلوں کو خلافت کا مطیع بنانے کا حق ادا کر سکتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہم میں سے انہیں اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا وارث بننے کی یقین دہانی کروائی ہے جو ایمان پر قائم رہتے ہوئے ہر قربانی کے لیے تیار رہیں گے۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں" یہ مت خیال کرو کہ خدا تمہیں ضائع کر دے گا۔تم خدا کے ہاتھ کا ایک بیج ہو جو زمین میں بویا گیا۔خدا فرماتا ہے کہ یہ بیج بڑھے گا اور پھولے گا اور ہر ایک طرف سے اس کی شاخیں نکلیں گی اور ایک بڑا درخت ہو جائے گا۔پس مبارک وہ جو خدا کی بات پر ایمان رکھے اور درمیان میں آنے والے ابتلاؤں سے نہ ڈرے کیونکہ ابتلاؤں کا آنا بھی ضروری ہے تا خدا تمہاری آزمائش کرے کہ کون اپنے دعوئی بیعت میں صادق اور کون کا ذب ہے۔وہ جو کسی ابتلا سے لغزش کھائے گاوہ کچھ بھی خدا کا نقصان نہیں کرے گا اور بد بختی اس کو جہنم تک پہنچائے گی اگر وہ پیدا نہ ہو تا تو اس کے لئے اچھا تھا۔مگر وہ سب لوگ جو اخیر تک صبر کریں گے اور ان پر مصائب کے زلزلے آئیں گے اور حوادث کی آندھیاں چلیں گی اور قومیں ہنسی اور ٹھٹھا کریں گی اور دنیا ان سے سخت کراہت کے ساتھ پیش آئے گی وہ آخر فتح یاب ہوں گے اور برکتوں کے دروازے ان پر کھولے جائیں گے۔خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ میں اپنی جماعت کو اطلاع دوں کہ جو لوگ ایمان لائے ایسا ایمان جو اس کے ساتھ دنیا کی ملونی نہیں اور وہ ایمان نفاق یا بز دلی سے آلودہ نہیں اور