خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 550
خطبات مسرور جلد 16 550 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 16 نومبر 2018 کھڑے ہوں گے میرے خیال میں صرف یہاں فلاڈلفیا میں ہی نہیں تمام امریکہ میں اس پیغام کی ضرورت ہے۔ایک فلسطینی مسلمان خاتون شامل ہوئی تھیں۔کہتی ہیں کہ آپ کا پیغام بہت اہم تھا۔میرا تعلق فلسطین کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے ہے۔وہ حقیقی تعلیمات جو میں نے بچپن میں سیکھی ہیں وہ آج آپ کے خطاب میں دیکھنے کو ملی ہیں ، یہی حقیقی اسلام ہے جس کا ذکر ہوا ہے۔ہم جس بھی فرقے سے تعلق رکھتے ہوں ہمارا فرض ہے کہ امن کے لئے متحد ہو کر کام کریں۔پھر کہتی ہیں کہ آپ نے حقیقی رنگ میں تمام مسلمان کمیونیٹیز (communities) کی نمائندگی کی ہے۔یہ تو ان نیک فطرت لوگوں کا خیال ہے لیکن باقی مسلمان بھی اس بات کو سمجھیں کہ جماعت احمدیہ ہی حقیقت میں اسلام کی نمائندگی کر رہی ہے۔ایک خاتون ٹیچر کہتی ہیں کہ آپ کا امن کا پیغام بہت شاندار تھا۔گو کہ میں کینتھولک ہوں لیکن ایک ایک لفظ سے اتفاق کرتی ہوں۔میں یقین سے کہتی ہوں کہ اسلام امن کا پیغام دیتا ہے۔اسلام خدمت انسانیت کا درس دیتا ہے۔ایک پروفیسر جو اپنی یونیورسٹی کے پریذیڈنٹ کی نمائندگی کر رہے تھے وہ کہتے ہیں کہ آپ نے جو اس شہر کے لوگوں کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے ان کا تعلق اب سے نہیں بلکہ آنے والے وقت سے ہے۔ایک چیز جو میں نے آپ میں دیکھی ہے وہ یہ ہے کہ آپ صرف موجودہ وقت کی بات نہیں کر رہے ہوتے بلکہ آپ کی نظر آنے والے وقت پر ہوتی ہے اور پھر انہوں نے کافی اچھے الفاظ میں ایڈریس کو سراہا۔کہتے ہیں کہ آپ نے یہاں ایک بیج بو دیا ہے اب ہمارا یہ کام ہے کہ اس کی نگہداشت کریں اور اسے بڑھائیں اور اس کو بھائی چارے اور محبت کے مضبوط درخت میں تبدیل کریں۔ایک خاتون اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ آپ نے جو یہ کہا کہ ہم آپ لوگوں کے آنسو پونچھیں گے۔کتنے لوگ ہیں جو یہ کہہ سکتے ہیں؟ یہ بہت حیرت انگیز تھا۔میں اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ سکی۔اپنا پیغام دینے کے لئے ضروری نہیں کہ اونچی اور جو شیلی تقریر ہو۔وہ پیغام آپ نے بہت ہی محبت اور پیارے انداز میں دے دیا ہے۔میں نے یہ کہا تھا کہ غریبوں کی مدد کے لئے ہم ہر وقت تیار ہیں اور اگر کوئی تکلیف میں ہو تو ہم ہوں گے جو ان لوگوں کے آنسو پونچھنے والے ہوں گے۔ایک غیر احمدی امام صاحب بھی اس پروگرام میں شامل ہوئے تھے۔وہ کہتے ہیں کہ احمدیوں سے میرا پہلا تعلق جماعت کی جانب سے کئے گئے قرآن کریم کے ترجمہ کی وجہ سے ہوا تھا۔یہ وہ ترجمہ ان کے پاس ہے جو مولوی محمد علی صاحب کا ترجمہ ہے۔پھر کہتے ہیں کہ آپ کا پیغام بڑا اچھا تھا۔مجھے آپ سے سو فیصد اتفاق ہے۔یہی ہمارا مشن اور مقصد ہے۔ہم سب آدم کی اولاد ہیں اور ہم ایک دوسرے کا معیار زندگی بڑھانے کے لئے کوشش کرتے رہنا چاہئے۔ہم نے مل کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حقیقی پیغام کو پھیلانا ہے۔اللہ کرے یہ صرف ان کے الفاظ نہ ہوں بلکہ عمل کر نیوالے بھی ہوں۔پھر اگلے دن بالٹی مور (Baltimore) کی مسجد کا بھی افتتاح ہوا جس کا نام بیت الصمد ہے۔اور یہ بھی ایک چرچ کی بلڈنگ تھی جو خریدی گئی ہے اور پھر اس کو ٹھیک کر کے اس کو مسجد میں تبدیل کیا گیا ہے اور اتفاق سے