خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 448 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 448

خطبات مسرور جلد 16 448 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 ستمبر 2018 قریب مہمان تھے یہ مختلف قوموں کے۔جرمن خاص طور پر چار سو پانچ سو کے قریب۔کہتی ہیں اس خطاب کے لئے میں مردانہ جلسہ گاہ میں آئی تھی اور باقی وقت میں نے لجنہ کی مار کی میں گزارا ہے۔مردوں کے درمیان بیٹھے مجھے شرم آرہی تھی اور مجھے عجیب لگ رہا تھا کہ میرے سر پر دوپٹہ نہیں ہے۔پس یہ بات ان لڑکیوں میں بھی اعتماد پیدا کرنے والی ہونی چاہئے جو یہ کہتی ہیں کہ یہاں آ کے ہمیں شرم آتی ہے کہ یا دوپٹہ اتار دیں یا سکارف اتار دیں۔یہ عیسائی آ کے اس بات پر شر مندہ ہو رہی ہے کہ میں مردوں میں کیوں بیٹھی اور بغیر دوپٹے کے بیٹھی۔کو سوود سے ایک وکیل صاحب اپنے تاثرات بیان کرتے ہیں کہ جلسہ کے نظام کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ ہر کوئی خلافت کی اطاعت میں سرگرداں اپنا کام کر رہا ہے۔یہ تمام اطاعت اس وجود کی محبت تھی جو خلیفہ وقت کی شکل میں جماعت احمدیہ کو نصیب ہے۔اور مجھے کہتے ہیں خلیفہ وقت سے ملاقات کا موقع ملا۔جماعت کا ہر فرد ایک لڑی میں پر دیا ہوا ہے۔کو سو دو میں بھی اس طرح کے اجتماع وغیرہ ہوتے ہیں لیکن اس جلسہ میں شامل ہو کر ایک الگ ہی کیفیت انسان پر طاری ہوتی ہے کہ ہر رنگ و نسل کے لوگ اس جلسہ میں شامل ہیں اور ہر ایک کی ضرورت کے مطابق ان کا خیال رکھا جارہا ہے۔یہ وکیل احمدی نہیں ہیں۔کو سودو کے وفد میں ایک فزکس کے پروفیسر تھے آربر (Arber) صاحب وہ کہتے ہیں کہ یہ بات میرے لئے ناقابل یقین تھی کہ اتنے لوگوں کا ایک جگہ جمع ہونا اور ان کی ضروریات کا پورا کیا جانا ممکن ہے۔جلسہ میں شامل ہو کر تمام انتظامات کو بغور دیکھا کہ کس طرح ہر ایک چیز ایک نظام کے ساتھ چل رہی ہے اور ضروریات کا خیال رکھا جا رہا ہے۔ہر ایک کام کے لئے ایک خادم مقرر تھا۔لنگر میں جانے کا مجھے اتفاق ہوا۔وہاں ایک شخص سے ملاقات ہوئی۔وہ پچھلے بائیس سال سے پیاز چھیلنے کے لئے کام کر رہا ہے اور پچھلے بائیس سال سے اس کے پاس ایک ہی چھری ہے۔اس نے مجھے بتایا کہ یہ چھری بائیس سال سے میں نے اس لئے رکھی ہوئی ہے کہ خلیفتہ المسیح الرابع نے یہ چھری استعمال کی تھی اور اس پہ ہاتھ لگایا تھا۔تو اس لحاظ سے اس کا ان پہ بڑا اچھا اثر ہوا ہے۔جار جیا سے اڑتیس افراد پر مشتمل وفد جرمنی کے جلسہ میں شامل ہوا۔دو پادری صاحبان تھے۔دو مفتی صاحبان تھے۔شیعہ وسنی لیڈر تھے اور دیگر تیں غیر احمدی افراد تھے۔اس وفد میں ایک غیر احمدی مسجد کے امام جمبول (Jambul) صاحب بیان کرتے ہیں کہ میں جارجیا کی مسجد کا امام ہوں اور میں احمد یہ جماعت کی دعوت پر جر منی آیا ہوں۔میں نے اسلام کے بارے میں بہت سی نئی باتیں سیکھی ہیں جو میں پہلے نہیں جانتا تھا۔اور پھر میرے بارے میں کہتے ہیں کہ ان کا ایک جملہ مجھے یاد رہے گا کہ ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم انسانیت کی مدد کریں۔اسلام کا مذہب صرف اور صرف امن کا مذہب ہے۔یہاں آکر ہمیں اسلام کی حقیقی تعلیم معلوم ہوئی۔اور ایک اور خاتون ہیں لیکو (Lako) صاحبہ۔وہ کہتی ہیں جلسہ کے انتظامات کی وجہ سے ہر کارکن کا میں شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں۔پھر ایک اور ہیں ارما (Irma) صاحبہ یہ کہتی ہیں کہ آج عورتوں کے پروگرام میں شامل ہوئی ہوں اور مجھے حیرت تھی کہ عورتیں تمام پروگرام کیسے Manage کریں گی۔یہ بہت حیران کن تھا کہ سیکیورٹی