خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page ix of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page ix

خطبات مسرور جلد 15 i خلاص خطبات 2017ء خطبہ: 1 مورخہ : 06 جنوری بمقام: بیت الفتوح لندن خلاصہ خطبات صفحہ :15-1 خلاصہ: آج دنیا میں کوئی ایسی جماعت نہیں ہے جس کے ممبران اور افراد دنیا کے ہر شہر اور ہر ملک میں ایک مقصد کے لئے ایک ہاتھ پر جمع ہو کر اپنے مال خرچ کرنے کے لئے پیش کر رہے ہوں اور وہ مقصد بھی دین کی اشاعت اور خدمت خلق کا مقصد ہو۔۔وہ مسیح موعود اور مہدی معہود کی جماعت ہے جو گزشتہ تقریباً 128 سال سے خدمت اسلام اور خدمت انسانیت کے لئے اپنا مال قربان کر رہی ہے۔دنیا کے مختلف ممالک کے احمدیوں کی مالی قربانی اور خلیفہ وقت کی آواز پر لبیک کہنے کی نہایت درخشندہ اور قابل تقلید مثالوں کا روح پرور تذکرہ۔وقف جدید کے ساٹھویں سال کے آغاز کا اعلان۔مکر مہ اسماء طاہرہ صاحبہ اہلیہ مکرم صاحبزادہ مرزا خلیل احمد صاحب اور مکرم چوہدری حمید نصر اللہ خان صاحب سابق امیر ضلع لاہور و صدر فضل عمر فاؤنڈیشن ذکر خیر۔خطبہ : 2 مورخہ : 13 جنوری صفحہ: 27-16 بمقام: بیت الفتوح لندن خلاصہ : آنحضرت صلی الم نے فرمایا کہ حیا ایمان کا حصہ ہے۔ہر احمدی لڑکی لڑکے اور مرد اور عورت کو اپنی حیا کے معیار اونچے کرتے ہوئے معاشرے کے گند سے بچنے کی کوشش کرنی چاہئے نہ کہ یہ سوال یا اس بات پر احساس کمتری کا خیال کہ پردہ کیوں ضروری ہے ؟ یہ والدین اور خاص طور پر ماؤں کا کام ہے کہ چھوٹی عمر سے ہی بچوں کو اسلامی تعلیم اور معاشرے کی برائیوں کے بارے میں بتائیں تبھی ہماری نسلیں دین پر قائم رہ سکیں گی اور نام نہاد ترقی یافتہ معاشرے کے زہر سے محفوظ رہ سکیں گی۔ان ممالک میں رہ کر والدین کو بچوں کو دین سے جوڑنے اور حیا کی حفاظت کے لئے بہت زیادہ جہاد کی ضرورت ہے۔ہم نے لڑائی نہیں کرنی لیکن حکمت سے ان لوگوں سے معاملہ کرنا ہے۔اسلام کی پابندیاں صرف عورتوں کے لئے نہیں ہیں بلکہ مردوں اور عورتوں دونوں کو حکم ہے۔پردہ سے متعلق قرآن مجید اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی روشنی میں اسلامی تعلیمات کا تذکرہ۔خطبہ: 3 مورخه : 20 جنوری بمقام: بیت الفتوح - لندن صفحہ: 39-28 خلاصہ: بیشک ایک حقیقی مومن پر نماز فرض ہے اور اس بات کا اسے خود خیال رکھنا چاہئے لیکن جماعت میں ایک نظام بھی قائم ہے اس نظام کو بھی اس طرف توجہ دلاتے رہنا چاہئے۔حقیقت میں تو ہم احمدی ہونے کا حق اس وقت ادا کر سکیں گے جب ہم اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہوئے ان سے روحانی حظ اٹھانے والے ہوں گے۔پاکستان میں مثلاً جماعتی حالات بہت خراب ہیں۔ایسے میں پاکستان میں تو ہر احمدی کو جہاں لذت و سرور والی نمازیں پڑھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔اگر لذت و سرور پیدا کرنے والے نمازی پیدا ہو جائیں گے تو مالی نظام خود بخود ٹھیک ہو جائے گا بلکہ امور عامہ اور قضا کے جو مسائل ہیں وہ بھی بہت حد تک حل ہو جائیں گے بلکہ اگر سارے نمازیں صحیح طرح ادا کرنی شروع کر دیں تو باقی شعبہ جات بھی ایکٹو (active ) ہو جائیں گے۔قرآن مجید، احادیث نبویہ صلی اللہ علم اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے ارشادات کے حوالہ سے نماز با جماعت کے قیام کی طرف خصوصی توجہ دینے کے لئے افراد جماعت اور نظام جماعت کو تاکید کی ہدایات۔صفحہ : 53-40 خطبہ :4 مورخہ : 27 جنوری بمقام: بیت الفتوح لندن خلاصہ: ذیلی تنظیمیں بھی اور جماعتی نظام بھی اپنے کام اور خاص طور پر وہ کام جس کو اللہ تعالیٰ نے ہمارا مقصد پیدائش قرار دیا ہے اس میں ایسی منصوبہ بندی کریں اور ایسا پروگرام بنائیں کہ وقت کے ساتھ ستی اور کمزوری کی بجائے ہر دن ترقی کی طرف لے جانے والا ہو۔ہماری عبادتوں