خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 548
خطبات مسرور جلد 15 548 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 نومبر 2017 آنے کے ایسی باتیں کر جاتے ہیں اور ایسی گواہی دیتے ہیں جو حقائق سے دور ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ چاہے ذاتی یا اپنے والدین کا نقصان بھی ہو جائے تو پھر بھی کبھی ایسی بات نہ کرو جو گول مول ہو یا کسی بھی طرح یہ تاثر پیدا ہو کہ حقائق کو چھپانے کے لئے پہلو تہی کی گئی ہے۔سچی گواہی دینے سے بچنے کی کوشش کی گئی ہے۔یہ باتیں ہم روز مرہ کے معاملات میں دیکھتے ہیں۔مثلاً میاں بیوی کے معاملات ہیں۔قضا میں بہت سارے ایسے معاملات آتے ہیں جہاں حقائق سے کام نہیں لیا جاتا۔لین دین کے معاملات ہیں ان میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ وہاں حقائق چھپائے جاتے ہیں۔بعض دین کا علم رکھنے والے اور بظاہر خدمت میں پیش پیش بھی ایسی حرکتیں کر جاتے ہیں کہ انسان پریشان ہو جاتا ہے کہ ایسے لوگ بھی اس قسم کی باتیں کر سکتے ہیں جو بظاہر بڑے عالم ہیں اور دین کا علم رکھنے والے ہیں اور ان کا نیک اثر بھی قائم ہے۔اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ اپنے خلاف، اپنے والدین کے خلاف اپنے قریبی خونی رشتوں کے خلاف بھی حق کو نہ چھپاؤ۔حق کو بہر حال ظاہر کرو۔یہ لوگ صرف دوستیاں نبھانے کے لئے یا اپنے ذاتی مفادات کے لئے حق چھپاتے ہیں۔گول مول بات کرتے ہیں یا سچی گواہی دینے سے پہلو تہی کرتے ہیں۔اور اگر حقیقت ظاہر ہو جائے تو اپنی بات کی تائید کے لئے انہوں نے تیاری بھی خوب کی ہوتی ہے کہ کس طرح اس سے بچنا ہے اور کیا دلیلیں دینی ہیں۔لیکن ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو کچھ بھی تم کرتے ہو اس سے اللہ تعالیٰ خوب باخبر ہے، اس کو اچھی طرح اس کا علم ہے۔اللہ تعالیٰ کو دھو کہ نہیں دیا جا سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اس دنیا کے فائدے تو تم حاصل کر سکتے ہو لیکن اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے یہاں بچ بھی گئے تو اگلے جہان میں پکڑے جاؤ گے۔ہمارے تمام عملوں کی خبر رکھنے والا خد اوہ سارا اعمال نامہ سامنے رکھ دے گا جس میں وہ ساری باتیں ہوں گی۔جس امام کو ہم نے مانا ہے اس نے تو اس قرآنی حکم پر چلتے ہوئے ایسی مثالیں قائم کی ہیں جو غیروں کو بھی حیران و پریشان کر دیتی ہیں۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعوے سے بہت پہلے جوانی کے زمانے کا ایک واقعہ روایات میں آتا ہے کہ ایک دفعہ اپنے والد کے مزار عین کے خلاف ایک مقدمے میں آپ پیش ہوئے اور حق و انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے حق بات کی جس کا فائدہ مزار عین کو ہوا اور ان کے والد کا نقصان ہوا۔آپ کے وکیل نے آپ کو پہلے کہا بھی کہ جس طرح میں کہتا ہوں اگر اس طرح گواہی نہ دی تو نقصان ہو گا۔آپ نے فرمایا کہ جو بھی ہو جو حق بات ہے میں تو وہی بتاؤں گا۔تو بہر حال جج نے مزارعین کے حق میں ڈگری دے دی اور دیکھنے والے بتاتے ہیں کہ مقدمہ کے ہارنے کے بعد ، جب آپ کے خلاف فیصلہ ہو گیا اور آپ عدالت سے واپس ہوئے تو اس طرح خوش خوش واپس آرہے تھے کہ لوگ جن کو اس فیصلہ کا پتا نہیں تھاوہ سمجھے کہ شاید آپ مقدمہ جیت کرواپس آرہے ہیں۔(ماخوذ از تاریخ احمدیت جلد اول صفحہ 72-73۔آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 298)