خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 547
547 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 نومبر 2017 خطبات مسرور جلد 15 ہیں اور عدالت کو بھی دھوکے میں رکھتے ہیں۔بعض جگہ انصاف کرنے والے غلط فیصلے اپنے ذاتی مفادات کے لئے کر لیتے ہیں گویا کہ نظام ہی بگڑ گیا ہے۔تو بہر حال اس بے انصافی سے معاشرے میں برائیاں پھیلتی چلی جاتی ہیں۔پھر قومی سطح پر حکمران انصاف کے تقاضے پورے نہیں کرتے ، نہ اپنی رعایا کے لئے ہی انصاف کے تقاضے پورے کئے جار ہے ہوتے ہیں، نہ ہی ملکوں کے آپس کے تعلقات میں انصاف کے تقاضے پورے کئے جاتے ہیں۔علماء ہیں تو انہوں نے مذہب کو اپنے ذاتی مفادات حاصل کرنے کا ذریعہ بنالیا ہے اور دعویٰ مسلمانوں کا یہ ہے کہ ہم خیر امت ہیں اور اسلام ہی دنیا کے مسائل کا بہترین حل پیش کرتا ہے۔یقیناً مسلمان خیر امت ہیں اگر وہ اللہ تعالیٰ کے حکموں پر چلیں اور قرآن کریم کی تعلیمات پر عمل کریں۔یقیناً اسلام ہی دنیا کے تمام مسائل کا حل پیش کرتا ہے بشر طیکہ اس کی تعلیم کے مطابق حق اور انصاف قائم کیا جائے۔یہ آیات جو میں نے تلاوت کی ہیں یہ تین مختلف سورتوں کی ہیں۔النساء کی، المائدۃ کی اور الاعراف کی۔پہلی آیت جو النساء کی ہے اس کا ترجمہ یہ ہے کہ اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ کی خاطر گواہ بنتے ہوئے انصاف کو مضبوطی سے قائم کرنے والے بن جاؤ خواہ خود اپنے خلاف گواہی دینی پڑے یا والدین اور قریبی رشتہ داروں کے خلاف۔خواہ کوئی امیر ہو یا غریب دونوں کا اللہ ہی بہترین نگہبان ہے۔پس اپنی خواہشات کی پیروی نہ کرو مبادا عدل سے گریز کرو۔اگر تم نے گول مول بات کی یا پہلو تہی کر گئے تو یقینا اللہ جو تم کرتے ہو اس سے بہت باخبر ہے۔پس یہ وہ حکم ہے عدل کے معیار قائم کرنے کا۔ذاتی گھریلو معاملات میں بھی اور معاشرتی معاملات میں بھی کہ جیسے بھی حالات ہو جائیں انصاف اور عدل پر ہمیشہ قائم رہنا ہے۔مومنوں کو یہ حکم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی خاطر اور اللہ تعالیٰ کے حکموں کے مطابق مومن کی گواہی ہونی چاہئے اور یہ اسی وقت ہو سکتا ہے جب اللہ تعالی پر کامل ایمان ہو ایمان کا معیار انتہائی اعلیٰ درجہ کا ہو اور مضبوط ہو۔اس بات پر انسان قائم ہو کہ جو بھی حالات مجھ پر گزر جائیں میں نے انصاف پر مضبوطی سے قائم رہنا ہے اور یہ مضبوطی اسی وقت پیدا ہوتی ہے یا اس کی مضبوطی کا تبھی پتا لگے گا جب انسان اپنے خلاف بھی گواہی دینے کے لئے تیار ہو۔اپنے بیوی بچوں کے خلاف بھی گواہی دینے کے لئے تیار ہو۔اپنے والدین کے خلاف بھی اگر ضرورت پڑے تو گواہی دینے کے لئے تیار ہو۔قریبی رشتہ داروں کے خلاف بھی گواہی دینی پڑے تو تیار ہو۔فرمایا کہ خواہشات کی پیروی عدل سے دُور کرتی ہے۔اگر اپنی خواہشات کی پیروی کرنے لگ گئے تو عدل اور انصاف سے دُور ہو جاؤ گے۔آجکل معاشرے کے بہت سے مسائل اس لئے ہیں کہ عدل اور انصاف کے معیار اس پائے کے نہیں ہیں جو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے۔اپنی باتوں کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا عام بات ہے۔افسوس اس بات کا ہوتا ہے کہ بعض اوقات ہم میں سے بھی بعض لوگ دنیا داری اور ماحول کے زیر اثر باوجود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں