خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 539 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 539

خطبات مسرور جلد 15 539 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 نومبر 2017 مساجد کی تعمیر کے ذریعہ سے ہو رہا ہے۔مشن ہاؤسز کے قیام کے ذریعہ سے ہو رہا ہے۔جامعات کے قیام کے ذریعہ سے ہو رہا ہے۔اس وقت ایشیا میں بھی، افریقہ میں بھی، یورپ میں بھی ، نارتھ امریکہ میں بھی، انڈونیشیا میں بھی جامعات کا قیام عمل میں آچکا ہے جہاں سے مربیان اور مبلغین فارغ ہو کر تبلیغ اسلام کر رہے ہیں۔جب یہ ساری چیزیں احمدیوں کے علم میں آتی ہیں تو ان کو پتا ہے کہ اس کے لئے مالی قربانی کی بھی ضرورت ہے اور پھر وہ مالی قربانی کرتے ہیں۔اسی طرح جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی یہ فرمایا کہ مخلوق کی ہمدردی بھی جزو ایمان ہے۔اس ہمدردی کے تحت ہسپتالوں، سکولوں کا قیام اور اس کے علاوہ بھی جماعت میں امداد کا نظام ہے۔اور یہ سارا کچھ بھی مخلصین کی قربانیوں کے ذریعہ سے ہی ہو رہا ہے جنہیں اللہ تعالیٰ پر یہ یقین ہے کہ وہ ان کی قربانیوں کو اس دنیا میں بھی نوازتا ہے اور اگلے جہان میں بھی نوازے گا۔انشاء اللہ۔اگر کہیں کمی ہے تو بعض دفعہ یہ ضرور دیکھا گیا ہے کہ انتظامیہ کی طرف سے لوگوں کو توجہ نہیں دلائی جاتی۔اگر اس کے لئے توجہ دلائی جاتی رہے تو لوگوں کو توجہ بھی پیدا ہوتی ہے۔ایک دفعہ توجہ دلانے کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا تھا کہ : یہ بات بھی قرین قیاس ہے کہ اکثر لوگوں کو اب تک کہا بھی نہیں جاتا کہ ہمارے سلسلے کے لئے کسی چندے کی ضرورت ہے۔" آپ فرماتے ہیں " بہت سے لوگ رورو کر بیعت کر کے جاتے ہیں۔اگر ان کو کہا جاوے تو ضر ور وہ چندہ دیویں مگر ترغیب دینا ضروری ہے۔آپ نے فرمایا کہ " ہر ایک کمزور بھائی کو بھی چندے میں شامل کرو۔" (ملفوظات جلد 6 صفحہ 41 حاشیہ) اور ایک دوسرے کو تحریک کرو۔اور یہ بات آج بھی جیسا کہ میں نے کہا بالکل درست ہے۔جب توجہ دلائی جائے تو پھر لوگوں کی توجہ ہوتی ہے اور اسی وجہ سے اب جب میں نے کہا تھا کہ تحریک جدید اور وقف جدید کی تعداد بڑھائیں تو توجہ دلانے پر تعداد بھی بڑھ رہی ہے۔اور احمدی بچوں میں بھی قربانی کا ایک جوش اور جذ بہ نظر آتا ہے۔چنانچہ نا یہ نکور و۔کینیا سے مربی صاحب لکھتے ہیں کہ ابو بکر کیبی صاحب جو اس وقت وہاں کے صدر جماعت ہیں اور کینیا ڈیفنس فورسز میں بطور سارجنٹ کام کرتے ہیں۔یہ بہت مخلص احمد ی ہیں۔باوجو د مسجد سے دور کینٹ ایریا میں رہنے کے باقاعدگی سے لمبا سفر طے کر کے جمعہ کی نماز پہ ضرور حاضر ہوتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ ساتھ اپنی تین بیٹیوں کو بھی لے کر آئیں اور لاتے ہیں۔کینٹ میں اپنے گھر میں خاص طور پر ایم ٹی اے کی ڈش لگوائی ہوئی ہے۔خود بھی اور اپنے ساتھ کام کرنے والے فوجیوں کو بھی اکثر ایم ٹی اے کے پروگرام دکھاتے رہتے ہیں۔کہتے ہیں کہ میں کچھ عرصہ سے ہر خطبہ جمعہ میں تحریک جدید کی اہمیت کو اجاگر کر رہا تھا۔چند روز قبل جمعہ کی نماز کے بعد انہوں نے مربی صاحب سے بیان کیا کہ میری بچیاں بھی یہ خطبہ سنتی ہیں اور دوران ماہ ایک مہمان ان کے گھر آئے اور واپس جاتے ہوئے میری چھوٹی بیٹی سمیرا، جس کی عمر ابھی صرف پانچ سال ہے، اس کے ہاتھ میں چھپیں