خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 436 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 436

خطبات مسرور جلد 15 436 37 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 ستمبر 2017 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 15 ستمبر 2017ء بمطابق 15 تبوک 1396 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن، لندن، یوکے تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: آجکل مغربی پر لیس اور میڈیا یہ سوال کرتا ہے کہ تم اسلام کی امن پسند تعلیم کی باتیں کرتے ہو لیکن مسلمانوں کی اکثریت یہ باتیں نہیں کرتی اور نہ ہی وہ تمہیں مسلمان سمجھتی ہے۔اکثریت مسلمان نہیں سمجھتی اور احمدیوں کی تعداد بھی دوسرے مسلمانوں کے مقابلے میں بہت ہی تھوڑی ہے۔جب یہ صورتحال ہے تو پھر احمدی کس طرح اسلام کی حقیقی تعلیم پر چلنے کا دعویٰ کر سکتے ہیں۔جرمنی میں بھی گزشتہ دورہ میں یہی سوال مجھ سے کیا گیا۔اور پھر یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر تم کہتے ہو کہ یہی اسلام ہے تو باقی مسلمانوں کو تم کس طرح اس تعلیم پر چلنے کے لئے قائل کرو گے۔ہمارا جواب ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ ہم اسلام کی جس تعلیم کی بات کرتے ہیں اسے قرآن کریم سے ، حدیث سے ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے ثابت کرتے ہیں۔ہماری کوئی ہوائی باتیں نہیں ہیں کہ غیروں کو متاثر کرنے کے لئے ، ان کے اعتراضات دور کرنے کے لئے ہم کہتے ہیں کہ اسلام کی تعلیم ہر گز شدت پسندی کی تعلیم نہیں ہے یا کوئی آجکل کے حالات دیکھ کر ہم نے اپنا یہ موقف اختیار نہیں کیا ہوا۔ہم یہ ثابت کرتے ہیں کہ اسلام کی تعلیم ہمیشہ سے ہی حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کی تعلیم ہے۔جہاں تک یہ سوال ہے کہ دوسرے مسلمانوں کو اس تعلیم کے مطابق ہم کس طرح قائل کریں گے تو اس کا جواب یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق مسلمانوں کی ایسی بگڑی ہوئی حالت کے زمانے میں مسیح موعود اور مہدی معہود نے آنا تھا اور مسلمانوں کی بھی اصلاح کرنی تھی اور دوسری دنیا کو بھی اسلام کا حقیقی پیغام پہنچانا تھا۔سو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشگوئی بڑی شان سے پوری ہوئی اور جب یہ حالات تھے تو ایسے وقت میں مسیح موعود اور مہدی معہود کو اللہ تعالیٰ نے بھیجا اور اس نے آکر ہمیں اسلام اور قرآن کی حقیقی تعلیم کا ادراک دیا اور