خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 434 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 434

خطبات مسرور جلد 15 434 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 08 ستمبر 2017 بڑے مشہور غیر از جماعت سے میری ملاقات ہوئی۔وہ ملنے آئے تھے۔کہنے لگے یہ تو صحیح ہے کہ اس وقت آپ کی جماعت وہاں بڑی تکلیف میں سے گزر رہی ہے لیکن تبلیغ اور جماعت کا تعارف ملک کے تقریباً تمام حصے میں اس مخالفت کی وجہ سے ہو چکا ہے اور لوگ جماعت کو جاننے لگ گئے ہیں۔کہنے لگے یہ جو اتنا تعارف ہوا ہے شاید آپ لوگوں سے یہ دس بیس سال میں بھی نہ ہو سکتا جتنا اس مخالفت کی وجہ سے ہوا ہے۔اور یہ وہاں کے احمدی بھی لکھتے ہیں کہ ذرا بھی بہتر حالات ہوئے تو بہت سارے علاقے ایسے ہیں جہاں لوگ احمدیت قبول کرنے کے لئے تیار بیٹھے ہیں۔پس مخالفتوں یاد نیا والوں سے کسی قسم کا خوف نہیں ہونا چاہئے لیکن ساتھ ہی حکمت بھی ضروری ہے۔تبلیغ کے لئے یہ بات بھی ضروری ہے کہ انسان کے قول اور فعل میں مطابقت ہو۔جو کہتے ہیں اس پر عمل بھی کرنے والے ہوں۔حکمت کی باتیں بھی تبھی منہ سے نکلتی ہیں اور دوسروں پر اثر کرتی ہیں جب قول اور فعل ایک ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس طرف توجہ دلاتے ہوئے ایک موقع پر فرماتے ہیں کہ : " بہت سے مولوی اور علماء کہلا کر ممبروں پر چڑھ کر اپنے تئیں نائب الرسول اور وارث الانبیاء قرار دے کر وعظ کرتے پھرتے ہیں۔کہتے ہیں کہ تکبر ، غرور ، بدکاریوں سے بچو۔مگر جو اُن کے اپنے اعمال ہیں اور جو کر تو تیں وہ خود کرتے ہیں ان کا اندازہ اس سے کر لو کہ ان باتوں کا اثر تمہارے دلوں پر کہاں تک ہوتا ہے۔"ہر تبلیغ کرنے والے کی باتوں کا اثر بھی اس وقت ہی ہو گا جب وہ اپنے قول و فعل میں برابر ہو گا۔فرمایا کہ "اگر اس قسم کے لوگ عملی طاقت بھی رکھتے اور کہنے سے پہلے خود کرتے تو قرآن شریف میں لحد تَقُولُونَ مَالَا تَفْعَلُونَ (الصف: 3)- کہنے کی کیا ضرورت پڑتی ؟ یہ آیت ہی بتلاتی ہے کہ دنیا میں کہہ کر خود نہ کرنے والے بھی موجود تھے اور ہیں اور ہوں گے۔فرمایا " تم میری بات سن رکھو اور خوب یاد کر لو کہ اگر انسان کی سچے دل سے نہ ہو اور عملی طاقت اس میں نہ ہو تو وہ اثر پذیر نہیں ہوتی۔اسی سے تو ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی صداقت معلوم ہوتی ہے۔کیونکہ جو کامیابی اور تاثیر فی القلوب آپ کے حصہ میں آئی اس کی کوئی نظیر بنی آدم کی تاریخ میں نہیں ملتی اور یہ سب اس لئے ہوا کہ آپ کے قول اور فعل میں پوری مطابقت تھی۔" ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 67-68) پھر آپ نے فرمایا کہ " یاد رکھو " ہمیں بھی نصیحت فرما دی کہ صرف لفاظی اور لسانی کام نہیں آسکتی جب تک کہ عمل نہ ہو۔محض باتیں عند اللہ کچھ بھی وقعت نہیں رکھتیں۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ الله آنْ تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ (الصف: 4) - " (ملفوظات جلد 1 صفحہ 77) پھر آپ فرماتے ہیں کہ مومن کو دور نگی اختیار نہیں کرنی چاہئے۔بزدلی اور نفاق اس سے ہمیشہ دور ہو تا