خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 368 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 368

خطبات مسرور جلد 15 368 جمعه فرمودہ مورخہ 04 اگست 2017 سٹریمنگ (Live Streaming) تھی اس کے ذریعہ آخری دن جو میری تقریر تھی وہی لائیو سٹریمنگ پر تقریباً اڑھائی لاکھ لوگوں نے سنی۔اس طرح ایک محتاط اندازے کے مطابق تمام ذرائع سے ایک سو اٹھائیس ملین سے زائد لوگوں تک پیغام پہنچا ہے۔جن مشہور میڈیا آؤٹ لیٹس (Outlets) نے جلسہ کے حوالے سے کوریج کی ہے ان میں بی بی سی ٹی وی، بی بی سی ریڈیو، آئی ٹی وی ، انڈیپنڈنٹ اخبار ہے، دی ٹائمز اخبار ہے، سنڈے ایکسپر یس ہے۔لندن ایونگ سٹینڈرڈ ہے، نیو یارک ٹائمز ہے اور فیس بک لائیو ہے۔پھر ایسوسی ایٹڈ پریس اور پریس ایسوسی ایشن ، سپینش نیوز ایجنسی ای ایف ای ، انڈین نیوز ایجنسی پی ٹی آئی، فریج نیوز لبریشن اور یونی لیڈ (UniLad) ہیں۔بہر حال پریس کے ذریعہ سے اتنے وسیع پیمانے پر جماعت احمدیہ کا جو یہ سارا پیغام اور اسلام کا حقیقی پیغام پہنچا اس بات پر بھی ہمیں اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہونا چاہیئے۔سو گھنٹوں پر افریقہ میں بھی جلسہ سالانہ کی کوریج ہوئی۔افریقہ میں ایم ٹی اے افریقہ کے علاوہ دس چینلز پر جلسہ سالانہ کی نشریات دکھائی گئیں جن پر مختلف ممالک میں ایک سو پچاس سے زائد گھنٹوں پر مشتمل کوریج کی گئی۔ان چینلز کے ذریعہ سے بھی تقریباً ساٹھ ملین سے زائد افراد تک جلسہ سالانہ کی کارروائی پہنچی۔ان دس چینلز نے عالمی بیعت اور میرے تمام خطابات جو تھے ، تقریریں تھیں ان کو براہ راست نشر کیا۔سیر الیون نیشنل ٹی وی نے مسلسل مشتمل تینوں دن جلسہ سالانہ کی کارروائی نشر کی جبکہ بو (Bo) اور کینیما(Kenema) ٹی وی نے جلسہ سالانہ کی کارروائی مکمل طور پر نشر کرنے کے لئے اپنی ملکی نشریات بند کر دیں۔اسی طرح سارے ملک میں تین دن جلسہ کی کارروائی دیکھی اور سنی گئی۔گیمبیا میں پہلی دفعہ نیشنل ٹیلی ویژن نے جلسہ کی سالانہ تقاریر اور دیگر پروگراموں کو دکھایا۔جلسہ سالانہ کی براہ راست نشریات کے علاوہ بی بی سی یو گنڈا نے جلسہ سالانہ کی سواحیلی زبان میں خبر نشر کی اور یہ بھی اس علاقے میں کافی دیکھا جاتا ہے۔تقریباً نہیں ملین لوگ دیکھتے ہیں۔غانا نیشنل ٹیلیویژن اور ریڈیو اور نیوز سٹوریز کے ذریعہ تقریباً پانچ ملین افراد تک خبر پہنچی۔اخباروں کے ذریعہ سے تمام افریقن میڈیا کو ملا کر جلسہ سالانہ یو کے (UK) کی خبریں تقریباً پینتیس ملین افراد تک پہنچیں۔یہ سب اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔ہماری کوششیں اس میں بہت معمولی ہوتی ہیں اور اس لحاظ سے جو بھی معمولی کوششیں ہیں اس کے لئے ہمارا پر لیس اور میڈیا سیکشن جو ہے اس کا بھی میں شکریہ ادا کروں گا اور دوسرے ملکوں میں جو پر لیس اور میڈیا سیکشن ہیں انہوں نے بھی کام کیا ہے اللہ تعالیٰ ان سب کو جزا دے۔بہت وسیع پیمانے پر یہ خبریں پھر تبلیغ کا موجب بنتی ہیں۔جماعت کا تعارف ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ کرے کہ ہم اپنی ذمہ داریوں کو ہمیشہ ادا