خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 341 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 341

خطبات مسرور جلد 15 ٹھیس لگنے سے ٹوٹ جاتا ہے۔" 341 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 جولائی 2017 ( ملفوظات جلد 5 صفحہ 406) پس اس بات کو ہمیں یاد رکھنا چاہئے اور اگر بعض دفعہ کوئی ایسے حالات پیدا ہوں تو اپنی طبیعتوں پر جبر کر کے بھی ہمیں مہمان کو آرام اور سہولت پہنچانے کی کوشش کرنی چاہئے اور ہر شعبہ کے افسران سے میں کہوں گا کہ اگر ان کا رویہ نرم ہے، ان کے اخلاق اچھے ہیں، ان میں صبر کا مادہ ہے، ان میں نامناسب بات سننے کا بھی حوصلہ بڑھا ہوا ہے تو ان کے نائبین اور معاونین بھی ایسے ہی رویے مہمانوں کے ساتھ دکھائیں گے ، ان کا اظہار کریں گے اور مہمان نوازی کے عمدہ نمونے قائم کریں گے۔لیکن اگر افسران کے چہروں پر سختی، باتوں میں کر جنگی اور بات کو غور سے نہ سننے اور برداشت نہ کرنے کی عادت ہے تو ان کے نائبین بھی اور معاونین بھی ویسے ہی رویے دکھانے والے ہوں گے۔پس مہمان نوازی کے اعلیٰ معیار قائم کرنے کے لئے ہر شعبہ کے افسران اپنی حالت کا جائزہ لیتے رہیں اور عاجزی اور انکساری کو انتہا تک پہنچانے کی کوشش کریں۔جیسا کہ میں نے کہا کہ ایک دو شعبہ ہی مہمان نوازی کے تحت نہیں آتے بلکہ جلسہ سالانہ کا ہر شعبہ ہی مہمان نوازی کا شعبہ ہے۔چاہے وہ رہائش کا شعبہ ہے یا کھانے پکانے کا شعبہ ہے یا کھانا کھلانے کا انتظام ہے یا ٹرانسپورٹ کا انتظام ہے یا صفائی اور غسل خانوں کا انتظام ہے یا ڈا کٹر اور پیرامیڈیکس پر مشتمل صحت کی نظامت ہے یا راستوں کی رہنمائی کرنے والے خدام ڈیوٹی پر یا دوسرے لوگ یا سیکیورٹی کا شعبہ ہے اور اس کے علاوہ دوسرے شعبے، ہر ایک اپنے اپنے دائرے میں میزبان ہے۔رہائش کے انتظام والوں کو یادرکھنا چاہئے کہ اجتماعی قیامگاہوں میں بھی اور خیموں میں بھی عورتوں بچوں کی بیڈ نگ وغیرہ کا خاص طور پر خیال رکھیں۔بیشک آجکل گرمیوں کے دن ہیں لیکن رات کو موسم ایک دم ٹھنڈا بھی ہو سکتا ہے اور حدیقۃ المہدی میں جہاں جلسہ ہونا ہے انشاء اللہ تعالیٰ، لندن کی نسبت ویسے بھی چار پانچ ڈگری ٹمپریچر کم رہتا ہے اس لئے جو لوگ اپنے سونے وغیرہ کا انتظام کر کے آتے ہیں، بعض لوگ اپنے ٹینٹ بھی لے آتے ہیں انہیں اس بات کو سامنے رکھنا چاہئے کہ رات کے لئے بستروں کا با قاعدہ اچھا انتظام ہو۔گزشتہ سال کا تجربہ یہی ہے کہ بچوں والے بعض دفعہ موسم ٹھنڈا ہونے کی وجہ سے رات کو پریشان ہوتے رہے۔اسی طرح کھانا کھلانے والے ہیں جن کا براہ راست مہمانوں سے واسطہ ہے انہیں میں ہمیشہ یاد دہانی کرواتا ہوں کہ کھانا دیتے ہوئے پلیٹ میں ڈالتے ہوئے مہمان کی پسند کو بھی دیکھ لیا کریں گو اس میں کافی دقت اور مشکل پیش آتی ہے لیکن بہر حال کوشش کریں جس حد تک دیکھ سکتے ہیں دیکھیں اور اگر کوئی مجبوری ہو تو پھر بجائے سختی سے جواب دینے کے احسن رنگ میں اس کو جواب دیں، جس سے دوسرے کے جذبات کو تکلیف نہ ہو۔اس سال جلسہ کے انتظام کے تحت جو کھانے کی پلیٹیں ہیں وہ بھی بدلی گئی ہیں۔جو پہلے پلیٹیں استعمال ہوتی