خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 340
خطبات مسرور جلد 15 340 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 جولائی 2017 نے بھی اس میں بڑا کر دار ادا کیا، ہمارے مربیان کے بھی بڑے انٹر ویو آتے رہے۔جماعت کو اسلام کی امن پسند تعلیم کے حوالے سے دنیا کی پریس نے دنیا میں وسیع پیمانے پر متعارف کروایا ہے۔جوں جوں یہ واقعات بڑھ رہے ہیں جماعت کا تعارف بھی مزید بڑھ رہا ہے۔تو بہر حال جلسہ کے دنوں میں بھی اللہ تعالیٰ اس ذریعہ سے یعنی جلسہ کے ذریعہ اسلام کا تعارف کروانے کے وسیع سامان مہیا فرمارہا ہے۔جلسہ کے پروگراموں تقریروں وغیرہ کے ذریعہ جہاں احمدی روحانیت میں ترقی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔سیکھنے کے لئے آتے ہیں وہاں غیر از جماعت مہمان اور پریس علمی اور اعتقادی لحاظ سے ہماری تعلیم کو سننے کے ساتھ ساتھ عمومی طور پر جلسہ کے ماحول اور احمدی عورتوں مردوں کی رضا کارانہ خدمت اور مہمان نوازی کے جذبے سے انہیں کام کرتا ہوا دیکھ کر اسلام کی خوبصورت تعلیم کا عملی مشاہدہ بھی کر لیتے ہیں اور جیسا کہ میں نے کہا کہ یہ بہت بڑا تبلیغ کا ذریعہ ہے۔پس رضا کار کارکنان کا ایک بہت بڑا کردار ہے اور کارکنان جہاں اور جس پوزیشن میں بھی کام کر رہے ہیں ان کی ایک اپنی اہمیت ہے اور اس اہمیت کو ایک عام معاون کار کن سے لے کر افسر تک ہر ایک کو اپنے سامنے رکھنا چاہئے۔ایک عام معاون کار کن چاہے وہ چھوٹا سا پانی پلانے والا بچہ ہی ہو اس کا رویہ اور ایک لگن سے بے نفس ہو کر کام کرنا جہاں اسے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کا حاصل کرنے والا بنا رہا ہوتا ہے وہاں غیروں کو بھی متاثر کر رہا ہوتا ہے جس کا جلسہ میں شامل ہونے والے مہمان اظہار بھی کرتے ہیں۔اسی طرح معاونین کے علاوہ افسران جو ہیں ان کو بھی یاد رکھنا چاہئے کہ صرف اپنے کارکنان اور معاونین کو ہی خدمت کرنے والا سمجھ کر ان سے کام نہ لیں بلکہ خود بھی عاجزی کے ساتھ ایک معاون اور ایک عام کارکن کی طرح کام کرنے کی کوشش کریں۔اپنے کارکنوں سے اور دوسرے لوگوں سے بھی مہمانوں سے بھی اپنے رویے نرم اور تعاون کرنے والے رکھیں۔چہرے پر عاجزی اور نرمی کے تاثرات نظر آتے ہوں۔زبان میں نرمی اور اخلاق کے اعلیٰ اظہار کے معیار قائم ہو رہے ہوں۔ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ مہمان نوازی ایک بہت اہم شعبہ ہے اور مہمان نوازی صرف کھانا کھلانا، پانی پلانا یا زیادہ سے زیادہ رہائش کا انتظام کر دینا ہی نہیں ہے بلکہ جلسہ سالانہ کا ہر شعبہ ہی مہمان نوازی ہے چاہے اسے کوئی بھی نام دیا گیا ہو۔جلسہ پر جو بھی آتا ہے وہ مہمان ہے اور اس کی ضروریات کا خیال اپنے میٹر وسائل کے ساتھ رکھنا ہر اس شخص کا جو جلسہ سالانہ کی کسی بھی ڈیوٹی پہ متعین ہے ضروری ہے۔اس کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے جذبات کا ایک جگہ اظہار فرمایا جو ہمارے لئے اصولی لائحہ عمل ہے۔آپ علیہ السلام نے ایک موقع پر فرمایا کہ: "میرا ہمیشہ خیال رہتا ہے کہ کسی مہمان کو تکلیف نہ ہو بلکہ اس کے لئے ہمیشہ تاکید کرتا رہتا ہوں کہ جہاں تک ہو سکے مہمانوں کو آرام دیا جاوے۔" فرمایا کہ " مہمان کا دل مثل آئینہ کے نازک ہوتا ہے اور ذراسی