خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 299 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 299

خطبات مسرور جلد 15 299 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 23 جون 2017 اور ظلمت سے پاک وصاف ہے تو اس کے واسطے رحمت کے دروازے کھولتا ہے اور اسے اپنے سائے میں لے کر اس ( ملفوظات جلد 5 صفحہ 396-397) کی پرورش کا خود ذمہ لیتا ہے۔" پس یہ ہے وہ معیار جو ہمیں مستقل حاصل کرتے چلے جانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ہماری عبادتیں ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے لئے خالص ہوں۔رمضان کے بعد بھی ہم اپنی عبادتوں کے معیار قائم رکھنے والے ہوں تا کہ ہر لمحہ اللہ تعالیٰ کے سائے میں رہتے ہوئے اس کی پرورش کے فیض سے فیض پاتے رہیں۔پھر اس بات کو بیان فرماتے ہوئے کہ آپ کی بیعت میں آنے کے بعد ہمارے معیاروں کے بارے میں آپ کیا چاہتے ہیں ؟ آپ فرماتے ہیں: " وہ جو اس سلسلہ میں داخل ہو کر میرے ساتھ تعلق ارادت اور مریدی کا رکھتے ہیں اس سے غرض یہ ہے کہ تاوہ نیک چلنی اور نیک بختی اور تقویٰ کے اعلیٰ درجہ تک پہنچ جائیں اور کوئی فساد اور شرارت اور بد چلنی ان کے نزدیک نہ آسکے۔وہ پیچ وقت نماز باجماعت کے پابند ہوں۔وہ جھوٹ نہ بولیں۔وہ کسی کو زبان سے ایذاء نہ دیں۔وہ کسی قسم کی بد کاری کے مرتکب نہ ہوں۔اور کسی شرارت اور ظلم اور فساد اور فتنہ کا خیال بھی دل میں نہ لاویں۔۔۔۔۔۔۔تمام نفسانی جذبات اور بے جا حرکات سے مجتنب رہیں اور خدا تعالیٰ کے پاک دل اور بے شر اور غریب مزاج بندے ہو جائیں۔" ( مجموعہ اشتہارات جلد 3 صفحہ 46-47) پھر آپ فرماتے ہیں: "اہر ایک شر مقابلہ کے لائق نہیں ہے۔اس لئے لازم ہے کہ اکثر اوقات عفو اور در گذر کی عادت ڈالو۔"ضروری نہیں ہے کہ ہر بات کا جواب لڑائی سے دیا جائے۔اور فرمایا اور صبر اور حلم سے کام لو۔" ( مجموعہ اشتہارات جلد 3 صفحہ 48) پس یہ اخلاق اور عادتیں مستقل اپنانے کا حکم ہے۔لڑائی جھگڑوں سے بچنے کے لئے صرف رمضان میں ہی نہیں کہنا کہ اِنِّی صَائِمٌ کہ میں روزہ دار ہوں۔اس لئے میں نے نہیں لڑنا۔بلکہ رمضان کی تربیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی زندگی کو مستقل اعلیٰ اخلاق کے مطابق ہمیں ڈھالنا چاہئے۔آپ نے اسے مزید کھول کر ایک جگہ بیان فرمایا کہ : " چاہئے کہ تمہارے دل فریب سے پاک اور تمہارے ہاتھ ظلم سے بری اور تمہاری آنکھیں ناپاکی سے منزہ ہوں اور تمہارے اندر بجز راستی اور ہمد ردی خلائق کے اور کچھ نہ ہو۔" ( مجموعہ اشتہارات جلد 3 صفحہ 48) یہ ہونا چاہئے کہ صحیح راستے پر چلنے والے، مخلوق سے ہمدردی کرنے والے۔آنکھیں ہر گندی چیز سے بچنے والی ہوں۔آپ نے فرمایا اگر تم اپنی حالت ایسی کر لو جو میں بتا رہا ہوں اور خدا تم سے چاہتا ہے تو یقیناً سمجھو کہ خدا تمہارا ہی ہے۔تم سوئے ہوئے ہو گے اور خدا تمہارے لئے جاگے گا۔تم دشمن سے غافل ہو گے اور خدا اسے دیکھے گا