خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 297
خطبات مسرور جلد 15 297 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 23 جون 2017 گناہوں کی معافی کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ایک رمضان سے دوسرے رمضان تک ہونے والے چھوٹے گناہوں کو بھی معاف فرما دیتا ہے۔لیکن یہ واضح ہونا چاہئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے گناہوں سے معافی کے جو ذرائع بتائے ہیں وہ آپ ایک ترتیب سے بیان فرمارہے ہیں۔پہلے نماز۔پھر جمعہ۔پھر رمضان۔پس اس ترتیب سے یہ غلط فہمی دور ہو جانی چاہئے کہ صرف سال کے بعد رمضان کی عبادتیں ہی گناہوں سے معافی کا ذریعہ ہیں۔بلکہ یہ ترتیب اس طرف توجہ دلا رہی ہے کہ نمازوں کی پانچ وقت روزانہ ادا ئیگی اپنے حصار میں لئے ہوئے ساتویں دن جمعہ میں داخل کر کے جمعہ کی برکات سے حصہ دلائے گی۔اور سال بھر کے جمعے رمضان میں داخل کرتے ہوئے رمضان المبارک کے فیض سے فیضیاب کریں گے۔روزانہ کی پانچ نمازیں اللہ تعالیٰ کے حضور عرض کریں گی کہ یہ تیرا بندہ تیرے خوف اور تیری محبت کی وجہ سے بڑے گناہوں سے بچتے ہوئے پانچ وقت تیرے حضور حاضر ہو تارہا۔ہر جمعہ عرض کرے گا کہ تیرا یہ بندہ سات دن اپنے آپ کو بڑے گناہوں سے بچاتے ہوئے جمعہ کے دن جس میں تیرے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بھی ارشاد ہے کہ اس میں ایک قبولیت دعا کالمحہ بھی آتا ہے۔(صحيح البخارى كتاب الدعوات باب الدعا في الساعة التي في يوم الجمعة حديث 6400) اپنی دعاؤں کی قبولیت کی آرزو لے کر تیرے حضور حاضر ہو تا رہا۔رمضان کہے گا کہ اے خدا! یہ بندہ رمضان کا حق ادا کرنے کے بعد گناہوں سے بچتے ہوئے اور نیکیاں بجالاتے ہوئے اس رمضان میں اس امید پر داخل ہوا کہ تو اسے بھی اپنی رحمت، بخشش اور آگ سے بچانے کے عشروں سے فیضیاب کرے گا۔تو اللہ تعالیٰ جو بڑا رحیم و کریم ہے ان سے فیضیاب کرتے ہوئے انسان کو اپنی رحمت کی چادر میں ڈھانپ لیتا ہے اور شیطان کے حملوں سے اسے بچاتا ہے۔پس خوش قسمت ہیں ہم میں سے وہ جو اس سوچ کے ساتھ اپنی نمازوں، جمعوں اور اپنے روزوں کے حق ادا کرتے ہوئے اللہ تعالی کی پناہ میں آنے والے ہیں اور رمضان کے اس ماحول سے ہر لحاظ سے پاک ہو کر نکلنے والے ہیں۔ایسی پاکیزگی جو ہمیشہ کے لئے اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حق ادا کرنے والا بنانے والی ہے یا بناتی ہے۔پھر رمضان میں خاص طور پر قرآن کریم پڑھنے، سننے کی طرف توجہ پیدا ہوتی ہے۔بہت سے لوگ کوشش کرتے ہیں کہ کم از کم قرآن کریم کا ایک دور مکمل کرلیں کیونکہ یہ سنت بھی ہے۔لیکن ساتھ ہی اس مہینہ میں قرآن کریم کی تلاوت کی طرف توجہ اور اہتمام اس طرف بھی توجہ دلانے والا ہونا چاہئے کہ اب ہم نے روزانہ با قاعدگی سے قرآن کریم کے کچھ نہ کچھ حصہ کی تلاوت کرنی ہے۔اللہ تعالیٰ نے جہاں نمازوں کے مختلف اوقات کی طرف توجہ دلائی ہے اور اس کی اہمیت بیان فرمائی ہے