خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 294
خطبات مسرور جلد 15 294 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 23 جون 2017 طرف آئے اللہ تعالیٰ اس کو شش کو بھی قدر کرتے ہوئے نوازتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی نیکیوں کے اجر دینے کی کوئی انتہا نہیں ہے۔پس وہ اپنی راہ میں کوشش کرنے والوں کو بے انتہا نوازتا ہے اور جب انسان دنیا اور ذاتی خواہشات کے بتوں کو توڑ کر اس کی طرف آتا ہے تو پھر اس کے فضلوں کی بھی انتہا نہیں رہتی۔اللہ تعالیٰ نے نماز کے بارے میں کئی جگہ مختلف حوالوں سے ہمیں توجہ دلائی ہے۔صرف رمضان تک ہی محدود نہیں کیا بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازوں، جمعوں اور رمضان کے حوالے سے ایک ایسا ارشاد فرمایا ہے جو ایک مومن کو اور ایک ایسے شخص کو جو اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں رکھتا ہو ہر وقت سامنے رکھنا چاہئے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پانچ نمازیں، جمعہ اگلے جمعہ تک اور رمضان اگلے رمضان تک ان کے درمیان ہونے والے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے جب تک کہ وہ بڑے گناہوں سے بچتار ہے۔(صحیح مسلم كتاب الطهارة باب الصلوت الخمس والجمعة الى الجمعة۔۔۔الخ حديث 552) پس یہاں کھول کر بیان فرما دیا کہ پانچ نمازیں کفارہ بنتی ہیں اس وقت جب انسان اپنی پوری کوشش کر کے پانچ نمازیں اپنے وقت پر ادا کرے اور ہر نماز کے درمیان کا جو وقفہ ہے اس میں گناہوں سے بچنے کی کوشش کرتا رہے۔اگر چھوٹی موٹی کمزوریاں ہوں گی تو اللہ تعالیٰ انہیں معاف فرمادے گا بشر طیکہ نماز وقت پر اس کا حق ادا کرتے ہوئے ادا کی جائے۔پھر اسی طرح ہر جمعہ کی اہمیت بھی واضح کر دی کہ پانچ نمازوں کی جس طرح اہمیت ہے ، انہیں وقت پر ادا کرنے کا جس طرح حکم ہے اور ادائیگی کی صورت میں جس طرح اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے چھوٹے گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے بلکہ نمازوں کا حق ادا کرتے ہوئے اگر نمازیں پڑھی جائیں تو اللہ تعالیٰ کا یہ بھی وعدہ ہے کہ فحشاء سے بھی انسان بچتا ہے، برائیوں سے انسان بچتا ہے۔تو بہر حال فرمایا کہ جس طرح پانچ نمازیں فرض ہیں اسی طرح جمعہ بھی فرض ہے اور ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک سرزد ہونے والی چھوٹی غلطیاں اور کمزوریاں اور چھوٹے گناہ بھی اللہ تعالیٰ معاف فرما دیتا ہے۔اس کا کوئی یہ مطلب بھی نہ لے لے کہ اس دوران چھوٹے گناہ کر لو، اللہ تعالیٰ معاف کر دے گا۔نہیں۔بلکہ اس کا مطلب ہے کہ بشری کمزوریوں کی وجہ سے کوئی غلطی ہو گئی ہے تو اللہ تعالیٰ نمازوں اور جمعوں میں باقاعدگی اور گناہوں کی معافی کی دعاؤں اور اپنے عہدوں کی وجہ سے کہ آئندہ یہ نہیں کروں گا اللہ تعالیٰ معاف فرما دیتا ہے۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعوں میں با قاعدگی رکھنے کی اہمیت بیان فرماتے ہوئے فرمایا کہ جس نے متواتر تین جمعے جان بوجھ کر چھوڑ دیئے اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر کر دیتا ہے۔غلطی (سنن الترمذى كتاب الجمعة باب ما جاء في ترك الجمعة من غير عذر حدیث 500)