خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 292
خطبات مسرور جلد 15 292 25 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 23 جون 2017 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 23 جون 2017ء بمطابق 23 احسان 1396 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن، لندن، یوکے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: رمضان کا مبارک مہینہ آیا اور تیزی سے گزر بھی گیا۔باوجو د لمبے دنوں اور پھر گرمی بھی زیادہ ہونے کے اس دفعہ تو یہاں بھی ریکارڈ گرمی پڑی ہے، لیکن اکثر یا کم از کم جو لوگ مجھے ملے وہ یہی کہتے ہیں کہ اس دفعہ روزوں کا زیادہ احساس نہیں ہوا یا شدت موسم کے باوجود نسبتا کم احساس ہوا۔لیکن صرف اتنا ہی کافی نہیں ہے کہ ہم کہیں کہ روزے اس دفعہ غیر معمولی طور پر آسانی سے گزر گئے ، آرام سے گزر گئے۔اگر گزر گئے تو یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جو ہم پر ہوا کہ ہمیں اس نے ان دنوں میں سے آرام سے گزار دیا یا اگر تھوڑا سا بھوک پیاس کا احساس بھی ہوا تو صرف اس لئے کہ ہم کہہ دیں کہ ہلکا سا بھوک پیاس کا احساس ہوا اور زیادہ محسوس نہیں ہوا۔یہ کافی نہیں ہے۔بلکہ ہمیں اپنا جائزہ لینا چاہئے، ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کے ان بابرکت ایام میں کیا حاصل کیا؟ چاہے روزے آرام سے گزر گئے یا ذراسا احساس ہوا اور اس سے گزر گئے تو اس سے مقصد حاصل نہیں ہو جاتا۔مقصد تبھی حاصل ہو گا جب ہم یہ دیکھیں، اپنا جائزہ لیں کہ ہم نے حاصل کیا کیا؟ اللہ تعالیٰ جو ان دنوں میں رمضان کے مہینہ میں ساتویں آسمان سے نچلے آسمان پہ آجاتا ہے۔اللہ تعالیٰ جو ان دنوں میں اپنے بندوں کے قریب ہو کر ان کی دعائیں سنتا ہے۔(الجامع لشعب الايمان الجزء الخامس حديث ،3394 ، 3334 مطبوعه مكتبة الرشد ناشرون بيروت 2004ء) اللہ تعالیٰ جو ان دنوں میں روزہ رکھنے والوں کی خود جزا بن جاتا ہے۔(صحيح البخاری کتاب التوحید باب قول الله تعالى يريدون ان يبدلوا كلام الله۔۔۔الخ حديث 7492) اللہ تعالیٰ جو ان دنوں میں شیطان کو جکڑ دیتا ہے۔(صحیح مسلم کتاب الصيام باب فضل شهر رمضان حدیث 2495)