خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 224
خطبات مسرور جلد 15 20 20 224 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 مئی 2017 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 19 مئی 2017ء بمطابق 19 ہجرت 1396 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن، لندن، یوکے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اسلام کی تعلیم جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اتری ہر معاملے میں ہماری رہنمائی کرتی ہے۔اگر ہم میں سے ہر ایک اس رہنمائی پر عمل کرنے والا بن جائے تو ایک حسین معاشرہ قائم ہو سکتا ہے۔آج غیر مسلم دنیا جو اسلام پر اور مسلمانوں کے عمل پر اعتراض کرتی ہے اس اعتراض کے بجائے یہ لوگ اسلام کی تعلیم پر صحیح رنگ میں عمل کرنے کی وجہ سے مسلمانوں کے نمونوں کی مثال دے کر اسلام کے معتقد ہو جاتے۔قرآن کریم میں بے شمار احکامات ہیں لیکن ان سب کو ایک جگہ ایک فقرے میں اللہ تعالیٰ نے یہ کہہ کر جمع کر دیا کہ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُوْلِ اللهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ (الاحزاب:22) کہ یقینا تمہارے لئے اللہ کے رسول میں نیک نمونہ ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام تر زندگی گھر سے لے کر وسیع معاشرتی تعلقات تک قرآن کریم کے احکامات پر عمل کرنے والی تھی۔مگر بد قسمتی سے مسلمانوں کی اکثریت اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو پڑھتی تو ہے، اس بات کو بڑے احترام کی نظر سے بھی دیکھتی ہے لیکن اس پر عمل کے وقت اسے نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔پس حقیقی کامیابی اسی وقت ہو سکتی ہے جب ہم ہر معاملے میں اس اُسوہ کو اپنے سامنے رکھیں۔بعض دفعہ انسان بڑے بڑے معاملات میں تو بڑے اچھے نمونے دکھا رہا ہوتا ہے لیکن بظاہر چھوٹی نظر آنے والی باتوں کو اس طرح نظر انداز کر دیا جاتا ہے جیسے ان کی اہمیت ہی کوئی نہ ہو۔جبکہ اس کے بر عکس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ان باتوں کی طرف بہت توجہ اپنے ارشادات میں بھی اور اپنے نمونے میں بھی دلوائی ہے۔پس اگر اپنی زندگیوں کو ہم پر سکون بنانا چاہتے ہیں، اگر ہم اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں انہی اخلاق کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنانے کی ضرورت ہے جو ہمارے آقا و مطاع حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر معاملے میں ہمارے سامنے پیش فرمائے اور پھر اس زمانے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق نے