خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 157 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 157

خطبات مسرور جلد 15۔157 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 07 اپریل 2017 لوگ اس قابل ہوں کہ اللہ تعالیٰ سے رہنمائی حاصل کرنے والے ہوں اور اللہ تعالیٰ ان کے سینے کھولے۔نماز کے بعد میں ایک جنازہ غائب بھی پڑھاؤں گا جو مکرم حاجی نوح سوین ہینسن ( Naji Nuh Svend Hansen) صاحب کا ہے۔یہ ڈینش احمدی تھے۔پرسوں ان کی وفات ہوئی ہے۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ راجِعُون۔28ء جون 1929ء کو کوپن ہیگن میں پیدا ہوئے۔مذہبی لحاظ سے ان کا تعلق لوتھرن چرچ سے تھا۔ڈنمارک کے ایک مشہور فلاسفر اور ڈینش ریفارمر گرونڈوگ (Grundtvig) سے بہت متاثر تھے اور زمیندارہ خاندان سے ان کا تعلق تھا۔ہینسن صاحب نے 1951ء میں ٹیکنیکل یونیورسٹی ڈنمارک میں کیمیکل انجنیئر نگ میں ایم۔ایس۔سی کی پھر ملائیشیا میں ملازمت کے لئے چلے گئے۔26 جنوری 1956ء میں اسلام قبول کیا اور اسلام قبول کرنے کی ابتدائی وجہ ایک مسلمان خاتون سے شادی کرنا تھی۔لیکن اس کے بعد انہوں نے خود ہی اسلام کا بڑا گہر امطالعہ کیا اور پھر دل و جان سے اسلامی تعلیمات پر عمل کرنا شروع کیا۔1964ء میں اپنی اہلیہ کے ہمراہ پہلا حج کرنے کی توفیق پائی اور وہاں انہوں نے نماز میں خدا تعالیٰ کے حضور یہ دعا کی کہ حج کی ادائیگی میں جو خامیاں اور کمزوریاں رہ گئی ہیں اے خدا تو انہیں معاف فرما دے اور جب میں روحانی لحاظ سے بہتر ہو جاؤں تو مجھے ایک بار پھر حج کی توفیق عطا فرما۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا اس رنگ میں قبول فرمائی کہ انہیں احمدیت کے قبول کرنے کی توفیق ملی اور پھر احمدیت قبول کرنے کے بعد ایک بار پھر انہوں نے حج کیا اور متعدد عمرے کئے۔1965ء میں آپ کا تعلق جماعت سے قائم ہوا۔حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ 1968 ء میں جب وقف عارضی کے لئے ڈنمارک تشریف لے گئے تو موصوف چوہدری صاحب کے ساتھ کافی رہے۔اس وقت تک بیعت نہیں کی تھی لیکن احمدیت کی تعلیم سے متاثر ہو رہے تھے۔کچھ سوالات ان کے ذہن میں تھے۔1969ء میں پاکستان کا سفر کیا۔حضرت چوہدری صاحب کے ہاں قیام کیا اور سفر کے دوران ربوہ بھی گئے۔حضرت خلیفتہ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا شرف ملا۔اس وقت تک آپ احمدیت کا بڑا گہرا مطالعہ کر چکے تھے لیکن پوری طرح تسلی نہیں ہوئی تھی تو حضور رحمہ اللہ سے ملاقات کرنے کے دوران آپ نے ان سے چند سوالات بھی پوچھے اور اس وجہ سے پھر کہتے ہیں کہ وہیں احمدیت کی حقیقت مجھ پر آشکار ہو گئی۔چنانچہ واپس آکر 7 اپریل 1969ء کو حضرت خلیفتہ المسیح الثالث " کی خدمت میں اپنی بیعت کا خط بھجوایا اور احمدیت میں شامل ہوئے۔پھر قادیان بھی ان کو جانے کا شرف حاصل ہوا اور وہاں انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مزار پر کھڑے ہو کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سلام پہنچایا۔74ء سے 88 ء تک نیشنل سیکرٹری مال ڈنمارک کے عہدے پر خدمت کی توفیق پائی اور اس نظام کو بہتر کیا۔85ء میں حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو امیر جماعت ڈنمارک مقرر فرمایا۔اس سے پہلے آپ 27 اپریل 83ء کو نائب امیر مقرر ہوئے تھے۔حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب سوین ہینسن صاحب کے بارے میں