خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 648
خطبات مسرور جلد 14 648 51 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 دسمبر 2016 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 16 دسمبر 2016ء بمطابق 16 فتح 1395 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہم آجکل اسلامی مہینہ ربیع الاول سے گزر رہے ہیں۔اسلامی دنیا خاص طور پر پاک و ہند میں اس مہینہ کی اہمیت اس لئے ہے ویسے تو ساری اسلامی دنیا میں ہے لیکن یہاں خاص طور پر اسے بڑا منایا جاتا ہے کہ بارہ تاریخ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی۔ایک تحقیق یہ کہتی ہے۔پھر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے "سیرت خاتم النبیین " میں یہ بھی لکھا ہے کہ ایک مصری سکالر کی تحقیق کے مطابق 19 ربیع الاول بنتی ہے۔(سیرت خاتم النبیین از حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے صفحہ 93) بہر حال ربیع الاول کا مہینہ وہ مہینہ ہے جس میں ہمارے آقا و مطاع حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی۔لیکن افسوس ہے مسلمانوں کی حالت پر کہ یہ دن مناتے تو محسن انسانیت اور رحمتہ للعالمین کی پیدائش کی خوشی میں ہیں لیکن آپس میں مسلمان قُلُوبُهُم شقی (الحشر: 15) کہ ان کے دل پھٹے ہوئے ہیں، کے مصداق بنے ہوئے ہیں۔اللہ تعالیٰ تو مسلمانوں کے آپس کے تعلقات میں یہ خصوصیت بیان فرماتا ہے کہ رحما بينهم (الفتح: 30) کہ آپس میں بہت زیادہ رحم کرنے والے ہیں لیکن یہ رحم تو دور کی بات ہے اکثر ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہیں۔روزانہ خبریں آتی ہیں سینکڑوں مسلمان مسلمانوں کے ہاتھوں قتل ہو رہے ہیں اور یہ چیز ایسی ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کو سخت ناپسند ہے۔اگر اپنے طور پر ظلم کر رہے ہیں تو کریں لیکن یہی چیز ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے نام پر ہو رہی ہے۔مسلمان مسلمان کو قتل کر رہا ہے اور اللہ اور رسول کے نام پر قتل کر رہا ہے۔وہ خدا جو رب العالمین ہے اور رحمان ہے، رحیم ہے ، وہ رسول جو رحمتہ للعالمین ہے ان کے نام پر ظلم و بربریت کی مثالیں قائم کر کے بیکسوں، عورتوں، بچوں، معصوموں کو گھروں سے بے گھر کیا جارہا