خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 637 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 637

خطبات مسرور جلد 14 637 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 09دسمبر 2016 بطور الہام فرماتا ہے کہ رَبِّ لَا تَذَرْنِي فَرْداً وَأَنْتَ خَيْرُ الْوَارِثِينَ یعنی مجھے اکیلا مت چھوڑ اور ایک جماعت بنا دے۔یہ آپ نے اس کا ترجمہ خود ہی کیا ہوا ہے۔پھر فرماتے ہیں کہ دوسری جگہ فرمایا يَأْتِيكَ مِن كُلّ فَجٍ عَمِيقٍ۔ہر طرف سے تیرے لئے وہ زر اور سامان جو مہمانوں کے لئے ضروری ہے اللہ تعالیٰ خود مہیا کرے گا اور وہ ہر ایک راہ سے تیرے پاس آئیں گے۔اور پھر فرمایا۔يَأْتُونَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ۔اور ہر ایک راہ اور ہر طرف سے تیرے پاس مہمان آئیں گے۔آپ نے فرمایا کہ 26 سال پہلے کی پیشگوئی ہے۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 9 صفحہ 161) جب آپ نے یہ ذکر کیا اور جو آب تک بڑی شان سے پوری ہو رہی ہے۔اور یہ جماعت کی ترقی کی پیشگوئی ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ یہ پیشگوئی آج تک بڑی شان سے پوری ہو رہی ہے۔آپ کی جماعت کا ہر روز بڑھنا، مالی قربانی میں لوگوں کا بڑھنا، آپ کی صداقت کی ایک زبر دست دلیل ہے اور ایک نشان ہے یہ لیکن اسے ہی نظر آتا ہے جس کی آنکھ بینا ہو۔اندھوں کو نظر نہیں آتا۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض الہامات کے حوالے سے غلبہ احمدیت کے ذرائع اور جماعتی ترقی کے بارے میں جو واقعات بیان کئے ہیں ان میں سے بعض پیش کرتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی اللہ تعالیٰ نے متواتر بتایا کہ جماعت احمدیہ کو بھی ویسی ہی قربانیاں کرنی پڑیں گی جیسی پہلے انبیاء کی جماعتوں کو کرنی پڑیں۔چنانچہ ایک دفعہ آپ نے رویا میں دیکھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک رؤیا میں دیکھا کہ میں نظام الدین کے گھر میں داخل ہوا ہوں۔نظام الدین کے معنی ہیں دین کا نظام۔اور اس رویا کا مطلب یہ ہے کہ آخر احمد یہ جماعت ایک دن نظام دین بن جائے گی اور دنیا کے اور تمام نظاموں پر غالب آجائے گی۔انشاء اللہ۔مگر یہ غلبہ کس طرح ہو گا اس کے متعلق رویا میں آپ فرماتے ہیں کہ ہم اس گھر میں کچھ حسنی طریقے سے داخل ہوں گے اور کچھ حسینی طریقے پر داخل ہوں گے۔یہ سب لوگ جانتے ہیں کہ حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جو کامیابی حاصل کی وہ صلح سے کی اور حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جو کامیابی حاصل کی وہ شہادت سے حاصل کی۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بتایا گیا کہ نظام الدین کے مقام پر جماعت پہنچے گی تو سہی مگر کچھ صلح محبت اور پیار سے اور کچھ شہادتوں اور قربانیوں کے ذریعہ۔اگر ہم میں سے کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ بغیر صلح اور محبت اور پیار کے یہ سلسلہ ترقی کرے گا تو وہ بھی غلطی کرتا ہے اور اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ بغیر قربانیوں اور شہادتوں کے یہ سلسلہ ترقی کرے گا تو وہ بھی غلطی کرتا ہے۔ہمیں کبھی صلح اور آشتی کی طرف جانا پڑے گا اور کبھی حسینی طریق اختیار کرنا پڑے گا جس کے معنی یہ ہیں کہ ہم نے دشمن کے سامنے مر جانا ہے مگر اس کی بات نہیں