خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 611 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 611

خطبات مسرور جلد 14 611 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 نومبر 2016 جماعت نے بتایا کہ اسلام کس طرح ملٹی کلچر ازم کو فروغ دیتا ہے۔کہتے ہیں ہماری سوسائٹی میں اس چیز کی بہت ضرورت ہے اور امام جماعت تمام لوگوں کو یکجا کر رہے ہیں اور بین المذاہب ڈائیلاگ کو فروغ دے رہے ہیں۔امام جماعت کی باتیں میرے دل کو جا کر لگی ہیں۔بالخصوص جب انہوں نے عالمی تعلقات کے حوالے سے بات کی اور بتایا کہ ان مسائل کا کیسے حل نکل سکتا ہے اور انہوں نے قرآن کریم کے حوالے دے کر ثابت کیا کہ اسلام امن کا مذہب ہے اور مسلمانوں کو ہر حال میں صلح کی طرف ہاتھ بڑھانے کی تعلیم دی گئی ہے خواہ دوسرے فریق کی نیست خراب کیوں نہ ہو۔ایک مہمان انیلہ لی یوان (Anila Lee Yeun) صاحبہ کہتی ہیں کہ مجھے بہت اچھا لگا کہ امام جماعت نے کینیڈا کے سابق وزیر اعظم کے سامنے مغربی دنیا کو بتایا کہ انہیں انصاف کرنا چاہئے اور دنیا کے مسائل میں اپنے کردار پر غور کرنا چاہئے۔امام جماعت نے بالکل درست کہا کہ دنیا کے مسائل کا ذمہ دار کسی ایک فریق کو نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔کینیڈا کی Indigenous community جو ہے۔وہاں کے جو پرانے مقامی لوگ ہیں اپنے اپنے قبیلوں میں رہتے ہیں، اکثر شہروں میں بھی آتے ہیں لیکن بہر حال یہ فرسٹ نیشن کہلاتی ہے اور مقامی ہیں۔ان میں ایک لی کروشیلڈ (Lee Crowchild) کہتے ہیں مجھے بہت اچھا لگا کہ امام جماعت نے نہایت ایمانداری اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسلام پر لگائے جانے والے اعتراض کہ اسلام دہشتگردی کی تعلیم دیتا ہے کا مقابلہ کیا۔مجھے یہ بھی بہت اچھا لگا کہ امام جماعت نے اسلامی صحیفے سے یعنی قرآن شریف سے حوالہ جات دے کر ثابت کیا کہ ایسے اعتراضات غلط ہیں۔پھر کہتے ہیں کہ امام جماعت نے جس طرح مغربی ممالک کو کہا کہ وہ مشرق وسطی میں ہتھیار مہیا کر رہے ہیں وہ بھی بالکل سچ ہے۔امام جماعت نے اسلامی جنگوں کی حکمت بیان کرتے ہوئے ایک فقرہ کہا کہ to stop hand of oppressor۔کہتے ہیں یہ فقرہ مجھے بہت پسند آیا۔میں اسے ہمیشہ یاد رکھوں گا۔یعنی اسلامی جنگیں اس لئے لڑی گئیں کہ to stop hand of oppressor۔کہتے ہیں میں جانتا ہوں کہ آپ کے خلیفہ ظلم اور تشدد کا مطلب بڑی اچھی طرح سمجھتے ہیں اس لئے میں نے محسوس کیا کہ خلیفہ ہماری تکلیف کو بڑی اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں۔ان کے مختلف قبیلے ہیں۔ان کے بھی دس لیڈر وہاں آئے ہوئے تھے ان سے بھی ملاقات ہوئی اور یہاں بھی ہم تبلیغ کے پروگرام بنائیں گے۔انشاء اللہ۔رستے بھی کھلیں گے۔کیلگری میں ٹی وی، ریڈیو کے مختلف نیوز چینل اور میڈیا کے ذریعہ سے جو کوریج ہوئی ہے اس میں آٹھ دس چینلز نے اور اخباروں نے خبریں دیں جن میں نیشنل لیول کے بڑے بڑے اخبار بھی تھے۔اس طرح کیلگری میں جو انٹر ویو اور پریس کانفرنس وغیرہ ہوئی ہیں اس کے ذریعہ سے مجموعی طور پر پانچ ملین لوگوں تک پیغام پہنچا ہے۔