خطبات محمود (جلد 6) — Page 86
ہو سکتا۔ اسی طرح زبانیں ہیں۔ انگریزی ہے۔ عربی ہے۔ فارسی ہے۔ جرمن ۔ روسی فرینچ کر دو۔ غرض بہت سی زبانیں ہیں اور ان کے سیکھنے کے لیے بہت سے کورس ہیں جن میں سے کسی ایک کے ذریعہ زبان یکھی جا سکتی ہے، لیکن اُسی وقت تک جبکہ استقلال کے ساتھ اس کو عمل مں لایا جائے کیونکہ جب تک با قاعدگی اور استقلال کے ساتھ اس کو نہیں پڑھا جائیگا۔ کچھ فائدہ نہیں ہوگا۔ مثلاً اگر کوئی عربی زبان سیکھنے کے لیے اس کے کورس میں سے آج تو حاشیہ کا کچھ حصہ پڑھ لے اور کل مبنی کے ایک دو صفحہ دیکھ لے اور پرسوں مقامات حریری ہی کو پڑھنے لگے اور اسی طرح ہر روز کتاب بدلتا رہے تو وہ کبھی عربی زبان نہیں سیکھ سکے گا۔ کیونکہ پڑھنے والے نے اگر چہ کتا ہیں تو بہت سی شروع کیں مگر استقامت سے کسی ایک کو بھی ختم نہ کیا۔ تو زبان عربی حاصل کرنے کے بہت سے ذرائع ہیں ۔ مگر ان سب میں استقلال و استقامت کی بہت سی ضرورت ہے اور یہی حال ہر ایک مقصد اور مدعا کے حاصل کرنے کا ہے ۔ جب تک اس کے لیے کوشش کرتے ہوئے استقامت نہ دکھلائی جاوے اُس وقت تک وہ حاصل نہیں ہو سکتا ۔ یہ آیت جو میں نے پڑھی ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ اِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا الله ثمَّ اسْتَقَامُوا الو کہ جو لوگ ایمان کو درست کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اللہ ہمارا پیدا کرنے والا ا ہے۔ پھر اس کی عبادت کرتے ہیں اور اس پر استقامت دکھاتے ہیں یعنی اپنے اعمال و عبادات میں ہمیشگی اختیار کرتے ہیں۔ ان پر خدا کے فرشتے نازل ہوتے ہیں جو انھیں یہ کہتے ہیں کہ کسی بات سے مت ڈرو اور اس جنت کی خوشخبری سنو جس کا تمہیں وعدہ دیا گیا ہے۔ استقامت جب اللہ تعالیٰ کے متعلق آئے تو اس کے معنی ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں مداومت اختیار کرنا ۔ اس لیے اس کے یعنی ہوئے کہ وہ لڑکھڑائے نہیں بلکہ جو کام شروع کرتے ہیں اس پر مداومت اختیار کرتے ہیں درمیان میں نہیں چھوڑ دیتے - استقامت کے معنی یہ بھی ہیں کہ جو کام شروع کیا جائے اُس کو اُس وقت تک نہ چھوڑا جاتے جب تک کہ انجام کو نہ پہنچ جائے ۔ استقامت کے معنی ہر ایک کام پر مداومت اختیار کرنے کے نہیں ہیں ۔ کیونکہ جب ایک کام ہو جاتے تو پھر اس کے پیچھے لگے رہنا کوئی دانائی کی بات نہیں۔ ه دیوان حماسه عربی منظوم ادب کی مشہور کتاب مرتبہ ابو تمام حبیب الطائی : له دیوان تبتی سے مقامات بدیع الزمان کی طرز پر مشہور ادبی کتاب مصنفہ محمد الحریری