خطبات محمود (جلد 6) — Page 85
16 جد الاستقامة فوق الكرامة فرموده ۳۰ راگست شاشه ) ( حضور نے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد مندرجہ ذیل آیات تلاوت فرمائیں اور فرمایا :- إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَئِكَةُ الَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَالْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ ) نَحْنُ أَوْلِيَؤُكُمْ فِي الْحَيُوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي الْفُسُكُمْ وَالكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ نُزُلاً مِنْ غَفُورٍ رَحِيمٍ ( رحم سجده : ا ت ۳۳) کوئی عبادت مکمل نہیں ہو سکتی جب تک اس کے ساتھ استقامت نہ ہو۔ قرب الٹی کے ہزاروں ذرائع ہیں ، لیکن جب تک ان میں سے کسی ایک پر استقامت نہ اختیار کی جاتے اس وقت تک کامیابی نہیں ہو سکتی اور کوئی عبادت نفع نہیں دے سکتی، بغیر اس پر استقامت اختیار کرنے کے۔ دنیا کے ہر کام میں بھی جب تک استقامت نہ ہو کامیابی نہیں ہو سکتی۔ مثلاً ایک شخص کچھ بیمار ہوتا ہے اور کوئین کھاتا ہے تھوڑی دیر بعد ست گلو پھانکتا ہے۔ کچھ دیر بعد کچھ اور کھا لیتا ہے۔ تو اس کو فائدہ نہیں ہونا۔ یہ علاج تو اپنی جگہ صحیح ہونگے مگر ان میں سے ہر ایک کے ساتھ استقامت شرط ہے اور جس علاج کے ساتھ استقامت نہیں ہوتی ۔ وہ اعلیٰ سے اعلیٰ ہونے کے باوجود بھی بے فائدہ ثابت ہوتا ہے اور کوئی دوائی اس وقت تک اثر نہیں دکھا سکتی جب تک استقامت کے ساتھ اسے استعمال نہ کیا جائے۔ اور وہ طبیعت کے مطابق ہو کر اپنا اثر نہ دکھاتے، لیکن اگر جلد جلد رد و بدل کیا جائیگا تو دوائی خواہ کیسی ہی اعلیٰ درجہ کی کیوں نہ ہو اپنا کوئی اثر نہیں دکھا سکے گی۔ ایک طبیب بھی نسخہ بدلتا ہے اور بدلتا رہتا ہے، لیکن جب کوئی نسخہ مریض کی طبیعت کے مطابق ہو جاتا ہے۔ تو پھر نہیں بدلتا اور اسی ン کو استقامت کے ساتھ استعمال کرتا رہتا ہے ، لیکن اگر اس مفید نسخہ کو بدل دے تو نتیجہ کچھ نہیں