خطبات محمود (جلد 6) — Page 80
٠٧ ہم میں اور غیر مبالعین میں جو جھگڑا ہے ۔ وہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول سے فیصل ہو جاتا ہے ہے۔ کیونکہ حضرت مسیح موعود کی نبوت انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے علیحدہ کوئی نبوت نہیں ہے۔ پس جس طرح خدا کی وحدانیت پر اسی وقت ایمان لایا جا سکتا ہے۔ جبکہ خدا کے رسول محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو مانا جاتے ۔ اسی طرح محمد رسول اللہ کی رسالت کو اسی وقت مانا جا سکتا ہے جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواة والسلام کی نبوت پر ایمان ہو۔ والا نہیں ۔ تو اسلام کا خلاصہ اللہ تعالے سے تعلق ہے ۔ باقی نفس کی اصلاح اور شفقت علی خلق اللہ یہ سب اللہ تعالیٰ کے ساتھ اتحاد ہونے میں آ جاتی ہیں۔ اس کے لیے جو بھی مشکلات اور روکاوٹیں ہوں نہیں دیکھنا چاہیئے۔ ان کے رفع کرنے کی کوشش کرنا چاہتے ۔ اگر کسی میں طہارتِ نفس اور شفقت علی اللہ نہیں تو اس کا اتحاد باللہ کا دعویٰ غلط ہے ۔ خدا کے ساتھ محبت کا تعلق ایک تو خود اپنے نفس سے ہے جو طہارت نفس کہلاتا ہے اور دوسرا اپنے سے غیر کے ساتھ جو شفقت علی خلق اللہ ہے اگر ان دونوں میں سے کوئی نہیں تو اتحاد باللہ بھی حاصل نہیں ہو سکتا۔ عبادات۔ امانتداری حکومت کے فرائض کی ادائیگی عرض دنیا کے سب کام اس میں آجا تینگے۔ اور یہ اغراض جو ہیں۔ ان سب کے حصول کے لیے بڑی محنت اور کوشش کی ضرورت ہے ۔ اس کے ساتھ یہ بھی یاد رکھنا چاہتے کہ جتنی سعی کی ضرورت ہے ۔ اتنی ہی احتیاط کی بھی ضرور ہے کیونکہ جس قدر کوئی کام اہم ہوتا ہے۔ اس قدر اس کے لیے احتیاط کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے ۔ مثلاً اگر ایک پیسہ کہیں ضائع ہو۔ تو اس کی چنداں پرواہ نہیں کرتا ، لیکن جہاں اس کے بیٹے کی جان خطرہ پیسہ میں ہوگی۔ وہاں نہایت کوشش و احتیاط کو کام میں لائیگا۔ چونکہ یہ کام بھی کوئی معمولی نہیں ہے۔ اس لیے اس کے لیے معمولی احتیاط کی ضرورت نہیں ۔ بلکہ غیر معمولی احتیاط کی ضرورت ہے۔ کیونکہ جتنا عظیم الشان کام ہوتا ہے ۔ اتنی ہی بڑی بڑی روکیں اسکے رستہ میں حائل ہوتی ہیں۔ جو مقصد آپ کے مد نظر ہے وہ چونکہ بہت ہی عظیم الشان ہے اس لیے اس مقصد کے حصول میں بڑی بڑی مشکلات بھی شت ہیں۔ اور آپ جانتے ہیں کہ جتنا بلند مینار ہو گا۔ اتنی ہی زیادہ محنت اس پر پر چڑھنے کے لیے بردا است کرنی پڑیگی۔ پس اس مقصد عظیم میں جو روکیں اور مشکلات ہیں۔ ان کا دور کرنا آپ کے فرائض میں داخل ہے جس مقصد کے لیے آپ کھڑے ہوتے ہیں اس سے بڑا اور بہتر کوئی مقصد نہیں ہے اور نہ ہو سکتا ہے ۔ یعنی خدائے واحد کو پالینا اور اس سے اتحاد حاصل کر لینا ۔ اس کے لیے جو مشکلات حائل ہوں ان کو دور کرنے کے لیے بہت توجہ اور محنت کی ضرورت ہے۔ خدا پر ایمان لانے کا دعوی تو