خطبات محمود (جلد 6) — Page 79
۷۹ نجات ہو سکتی ہے۔ تو یقینا اس نبیوں کے بادشاہ اور اولیاء کے شہنشاہ کی طرف منسوب ہونے سے ہو جاتی لیکن جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اسماً منسوب ہونے سے اس وقت تک نجات نہیں ہو سکتی جب تک کہ ان مقاصد اور اغراض کو نہ پورا کیا جاتے جو آپ کی اُمت میں داخل ہونے سے عائد ہوتے ہیں۔ تو پھر آپ کے خادم حضرت مسیح موعود کی جماعت میں اسما داخل ہونے سے کب نجات ہو سکتی ہے ۔ ہیں جس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جماعت کے لیے عمل کی ضرورت تھی۔ قربانیوں کی ضرورت تھی محنت اور تکالیف برداشت کرنے کی ضرورت تھی۔ اس مقصد کے حاصل کرنے کے مال و جان۔ اولاد عزت و آبرو غرض ہر ایک پیاری سے پیاری چیز لگا دینے کی ضرورت تھی ۔ اسی طرح اس جماعت میں بھی اس مقصد کے حاصل کرنے کے لیے جو ہمارا مقصد ہے تمام چیزوں کو قربان کر ڈالنے کی ضرورت ہے۔ محض اس میں داخل ہو جانا کوئی حقیقت نہیں رکھتا ۔ ہماری جماعت میں داخل ہونے والے افراد کا فرض اولین ہے کہ وہ سوچیں کہ کیوں اس جماعت میں داخل ہوتے ہیں اور جب انہیں اس میں داخل ہونے کا مقصد معلوم ہو جاتے تو پھر دیکھیں کہ اس مقصد کے حصول کے لیے کن کن کوششوں کی ضرورت ہے ، اس کے رستہ میں کیا کیا روکیں ہیں۔ ان روکوا ۔ ان روکوں کو کس طرح دور کیا جا سکتا ہے۔ یہ ظاہر بات ہے کہ ہماری جماعت کی غرض اتحاد باللہ یعنی خدا کے ساتھ تعلق پیدا کرنا ہے اور جب کوئی شخص کسی دینی سلسلہ میں داخل ہوتا ہے تو اس کا فرض ہو جاتا ہے کہ اس صداقت کو جو اسے حاصل ہوتی ہے ۔ دوسرے لوگوں تک پہنچائے اور اسے پھیلاتے پس ہماری جماعت کی غرض تو یہ ہے کہ خدا تعالے سے اتحاد ہو۔ اور یہ ایک ایسی غرض ہے کہ اسی میں شفقت علی خلق اللہ اور اسی میں طہارت نفس آجاتی ہے اور اسی میں اللہ کے رسولوں پر ایمان لانا بھی آجاتا ہے ۔ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک وفد آیا اور عرض کی حضور کوئی ایسی جامع بات بتائی جاتے جس کی وجہ سے ہم جنت میں داخل ہو جاتیں ۔ آپ نے ان کے لیے پہلی بات یہ فرماتی کہ الایمان باللہ وحدہ اللہ کو ایک سمجھتے ہوتے اس پر ایمان لاؤ ۔ اس پر آپ نے فرمایا : اتدرون ما الایمان بالله وحدہ کیا جانتے ہو ایک اللہ پر ایمان لانا کیا ہے ؟ انہوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول ہی جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: شهادة ان لا اله الا الله و ان محمداً رسول الله واقام الصلوة وايتاء الزكوة وصيام رمضان - کہ یہ شہادت دینا کہ اللہ ایک ہے اور محمد اس کا رسول ہے اور نماز پڑھنا۔ زکوٰۃ دینا اور روزے رکھنا ہے۔ له بخاری کتاب الایمان باب اداء الخمس من الائميان