خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 69 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 69

५१ نبی کو اگر کوئی مارے تو حقیقت مشتبہ ہو سکتی ہے کیونکہ وہ تو انسان ہیں اور ماریں کھاتے ہیں ۔ گی نہیں ہرقسم کے دکھدیتے ہیں اور اندھوں اور تکلیفوں کے ذریعہ ہی انکی سچائی روشن ور ی ان کی تری کا ذریعہ ہوجاتی ہےکیونکہ خداتعالی اپنی تائید نصرت سے دکھا دیا ہے کہ وہ اس کی طرف سے ہیں۔ یہ مگر خدائی کا دعویٰ بے وقوفوں کے سوا کون کر سکتا ہے۔ پھر یہ دعویٰ کرنے والے دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو منہ سے ایسا دعویٰ کرتے ہیں۔ دوسرے وہ جو عملاً کرتے ہیں حکومت و اقتدار کے لحاظ سے مال و دولت کے لحاظ سے علم وفن کے لحاظ سے کسی کو کوئی رتبہ ملتا ہے تو وہ اپنی ہستی سے باہر ہو جاتے ہیں۔ وہ اس قسم کے دعوے عمل سے کرتے ہیں۔ اور یہی دعوے آخران کی ذلت و نامرادی کا موجب ہو جاتے ہیں گو اسے اس وقت کوئی نہ سمجھے مگر حقیقی ترقی عبودیت میں ہے جس قدر انسان عبد بنتا ہے اسی قدر اس کی ترقی اور معرفت کے دروازے کھلتے جاتے ہیں۔ کیونکہ اپنے علم اپنی ذات اپنی عقل اور تدبیر پر کوئی ناز نہیں ہوتا ۔ اس لیے اس کی کوشش ہمت اور تدبیر میں کستی نہیں ہوتی اور خدا تعالیٰ اسے برکت دیتا ہے ، لیکن جہاں کسی قوم نے خُدائی کا دعوی کیا جو عملاً ہوتا ہے تو یہ دعوی اس کے تنزل کا پہلا قدم ہوتا ہے۔ پھر وہ نیچے کرنے لگتی ہے ۔ گو اس کا یہ تنزل کسی کو نظر نہ آتا ہو، لیکن آخر ایک بار ہی ایسی کرتی ہے کہ پھر اس کی بربادی اور تنزل بالکل ظاہر ہو جاتا ہے۔ بر خلاف اس کے ترقی کرنے والی قوموں میں انکسار اور عبودیت ہوتی ہے۔ اسی طرح ان کی ترقی کی رفتار بھی بہت دھیمی ہوتی ہے مگر آخر اس کی رفتار میں بھی نمایاں ترقی نظر آتی ہے ۔ یہ بالکل درست ہے کہ عملاً خدائی کا دعویٰ کرنے والی قوموں کا تنزل ابتداء نظر نہیں آتا۔ مگر اس کے جراثیم پیدا ہو جاتے ہیں اور وہ نظر نہیں آتے جس طرح پر ایک مکان ٹپکتا ہو تو وہ نظر آتا ہے اور انسان اس کی مرمت کمر کے بند کر دیتا ہے ، لیکن جب کسی مکان کی بنیاد میں اندر ہی اندر پائی پڑتا ہو اس کا پتہ نہیں لگتا۔ اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ یکدم بیٹھ جاتا ہے ۔ اور یہ زیادہ خطر ناک ہوتا ہے۔ یہیں ان لوگوں کی حالت جو عملاً خدائی کا دعوائے ا دعوا سے کرتے ہیں اس مکان کی سی ہے جس کی بنیا دوں میں پانی پڑ رہا ہے ۔ اسی واسطے قرآن مجید میں جہاں سخت سزا کا ذکر ہے۔ فرمایا خاتی الله بنيانهم من القواعد ۔ (سورة النحل : ٢٧) پس انسان کبھی عبودیت سے باہر نہ جاتے۔ کبھی نہ سمجھے کہ اس کے لیے کسی پابندی اور اطاعت کی ضرورت نہیں اور نہ کوئی اتباع ہے۔ نہ فرمانبرداری ہے۔ یہ ہلاکت کی راہ ہے۔ اس سے بچو۔ یہ