خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 576 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 576

۵۷۶ مہمان لیے آیا ہوں ۔ اس لیے بچوں کو سلا دو۔ اور جب میں معان کو لاؤں ۔ تو کسی طرح چراغ گل کر دینا اور گھر میں روشنی کا سامان بھی نہ رکھنا۔ کیونکہ مہمان اکیلا کھانا نہیں کھا ئیگا۔ اور مجھے بھی اس کے ساتھ کھانا پڑیگا۔ چنانچہ جب مهمان اندر آیا۔ تو چراغ کسی طرح گل کر دیا گیا۔ صحابی نے مہمان سے معذرت کی کہ اب چراغ کر دیا صحابی نے مان سے کہا روشن نہیں کیا جا سکتا۔ آپ اندھیرے میں ہی کھانا کھائیں ۔ کھانا سامنے رکھا گیا۔ صحابی یونسی اندھیرے میں منہ سے آواز پیدا کرتے رہے گویا کھانا کھا رہے ہیں جس سے مہمان نے قیاس کیا کہ وہ بھی کھانا کھا رہے ہیں اور خود سیر ہو کر کھایا۔ خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ی واقعہ الہام کے ذریعہ بنایا اور تعریف کی۔ پس یہ ضروری نہیں کہ تم اگر اپنے مہمان کو پلاؤ نہیں کھلا سکتے تو ضرور پلاؤ ہی کھلاؤ۔ بلکہ تمہارا صرف یہ فرض ہے کہ تم اس کو جو کچھ کھلا سکتے ہو۔ وہ کھلاؤ اور تمہارا وہی کچھ مہمان کے پیش کرنا خدا کے نزدیک قابل تعریف فعل ہو گا جس کی تمہیں استطاعت ہے۔ پس انسان کا فرض اکرام ضیف کے مسئلہ میں یہ ہے کہ وہ اپنے مقدور بھر کوشش کرے۔ یہ تو وہ باتیں ہیں جو انسان کے اختیار کی نہیں اور جلسہ پر آنے والے مہمانوں کے متعلق بھی بعض ایسی باتیں ہیں جو فی الحال ہماری استطاعت سے بڑھ کر ہیں۔ مثلاً یہ کہ چاہتے کہ مہمان کے لیے جو جگہ ہو وہ فراخ ہو۔ اچھی ہو۔ اور اس کی ضروریات کے مطابق ہو جیگر ہم اپنے مہمانوں کے لیے اتنی جگہ مہیا نہیں کر سکتے ۔ ہمارے گھروں میں ان دنوں میں کوئی جگہ نہیں ہوتی ۔ ایک ایک مکان میں دس دس مہیں میں آدمی بھرے ہوتے ہیں۔ یا ہمارے ملک کے لوگ چار پائی پر سونے کے عادی ہوتے ہیں۔ مگر ہم اتنی چار پائیاں میتا نہیں کر سکتے۔ پھر یہ بھی کہ مہمان کے آگے اچھے سے اچھا کھانا رکھا جائے، لیکن ہم اس فرض کو بھی ادا نہیں کر سکتے۔ ہماری موجودہ مالی حالت اس کی اجازت نہیں دیتی ہیں یہ وہ باتیں ہیں۔ جو ہم نہیں کر سکتے۔ اس لیے اس کی وجہ سے ہم پر کوئی الزام نہیں آتا ، مگر بعض باتیں ایسی ہیں جو ہم کر سکتے ہیں۔ اگر ہم ان کونہیں کرتے تو سمجھا جائیگا کہ جو کچھ ہم کر نہیں سکتے تھے۔ اگر کر سکتے۔ تو وہ بھی نہ کرتے۔ و کیا باتیں ہیں جو ہم کر سکتے ہیں۔ یہ ہی کہ ہم خوش اخلاقی سے پیش آئیں۔ اگرکسی کی کوئی چیز گم ہوگئی ہو تو ہم اس کو تلاش کرنے میں مدد دیں یا کسی نے کسی جماعت سے ملنا ہے تو اس کا پتہ بتانا چاہتے ۔ یاکسی کوسی منظم سے ملنا ہے تو اسے ملیں یاکسی کو حکم کی یاکسی کان کے معلوم کرنے کی ضرورت ہے تو اس کی یم دکان کے معلوم کر تلاش میں مدد دیں ۔ اگر تم ان باتوں کو کرو۔ تو و جو نہیں کر سکتے ۔ ان کا بھی ثواب ملیگا اور سمجھا جائیگا کہ اگر وہ چیزیں تمہارے قبضہ میں ہوتیں تو تم کرتے اور اگر یہ نہ کرو تو پتہ لگے گا کہ اگر تمہارے پاس وہ چیزیں ہوئیں تو ان کو بھی نہ کرتے ۔