خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 575 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 575

۵۷۵ (105) اکرام ضيف فرموده ۷ ار دسمبر له ) ( تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا :- میں نے نے ایک جمعہ چھوڑ کر اس سے پہلے سے پہلے جمعہ جمعہ میں میں نصیحت کی تھی تھی کہ ہمارے قادیان کے دوست جلسہ کے کام میں منتظمین کی مدد کریں۔ چونکہ اب جلسہ قریب آگیا ہے ۔ اور اگلا جمعہ قریباً جلسہ کے دنوں میں ہ ہو گا کیونکہ عوام جمع کی نماز پڑھنے کے لیے لوگ پہلے سے یہاں پہنچ جایا کرتے ہیں۔ اس لیے میں جلسہ کے انتظام کے دوسرے پہلو کے متعلق احباب کو نصیحت کرتا ہوں ۔ ہ دفعہ بیاں کوش کی جاتی ہے کہ ہرطرح کی انتظام ہو کر پھر بھی چھ نقص رہ جا۔ مہمانوں کی خاطر و مدارات ایسی نہیں ہوتی جیسی کہ ہونی چاہیتے ۔ اس میں شبہ نہیں کہ اتنے بڑے اجتماع کا انتظام ایک دو مہمانوں کے انتظام کی طرح نہیں ہو سکتا ۔ اور اس تعداد کے لحاظ سے جو قادیان میں رہنے والے احمدیوں کی ہے۔ یہ مشکل بھی ہے۔ اتنا بڑا انتظام حکومت کر سکتی ہے۔ کیونکہ اس کا تسلط وسیع علاقہ پر ہوتا ہے اور اسے سینکڑوں آدمی کام کرنے کے لیے مہیا ہو سکتے ہیں۔ لیکن اس چھوٹے سے گاؤں میں ہمارے پاس اتنے کمرے بھی نہیں۔ جن میں ہم اچھی طرح مہمانوں کو ٹھر سکیں، ہمیں مجبوراً دس ہوس نہیں میں آدمیوں کو ایک ایک کمرے میں رکھنا پڑتا ہے، لیکن اگر ہم زیادہ جگہ مہیا نہ کر سکیں۔ تو ہم پر الزام نہیں۔ کیونکہ جو شخص اپنے مہمان کو دال روٹی مہیا کر سکتا ہے۔ اگر وہ یہی اپنے مہمان کے سامنے حاضر کر دیا ہے تو اس پر ہر گنزال پر ہرگنہ الزام نہیں آئیگا کہ اس نے کیوں مہمان کے لیے پلاؤ مہیا نہیں کیا، بلکہ و شخص خدا کے نزدیک تعریف کے قابل ہو گا کہ وہ جو کچھ کر سکتا تھا۔ اس نے کیا۔ حدیث میں آتا ہے کہ ایک رتق دفعہ بہت سے مہمان آتے اور انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو صحابہ میں تقسیم کر دیا۔ ایک صحابی اپنے حصہ کے مہمان کو اپنے گھر لے گئے اور بیوی سے پوچھا۔ کھانا ہے ۔ اس نے جواب دیا۔ کھانا تو اب کوئی نہیں ۔ صرف بچوں کے لیے کسی قدر ہے۔ انہوں نے بیوی سے کہا کہ میں تو انضرت صلعم کا ایک