خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 57 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 57

اور لوگ جن میں اتفاقی ہے ۔ وہ دنیا کے لیے ہے مگر دین کے لیے صرف احمدیوں میں ہی ہے اور احدی ہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے دین کی خاطر شقاق و نفاق کو اپنے سینوں سے نکال دیا ہے پس جب ان میں خدا کے فضل سے اتفاق واتحاد پیدا ہو گیا ہے تو نہایت ضروری ہے کہ اس کی حفاظت کریں ۔ دنیا میں اس وقت اسلام کی جو حالت ہے وہ کسی عقلمند سے! وہ کسی عقلمند سے پوشیدہ نہیں ۔ اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے ذریعہ اسلام کی ترقی اور کامیابی کے وعدے نہ ہوتے۔ تو یہ ڈیڑھ سو سال سے زیادہ کا مہمان نظر نہیں آتا۔ اگر چہ ایسے نادان اور جاہل لوگ بھی ہیں جن کا خیال ہے کہ سلطان روم جس قت گھوڑے پر سوار ہوتا ہے تو تمام یورپ کے بادشاہ نوکروں کی طرح اس کے ساتھ ساتھ پیدل چلتے ہیں مگر ان کو کیا معلوم ہے کہ سلطان روم یورپ کے بادشاہوں کے لیے اس پا میدان کی طرح ہے جس سے کمرہ میں داخل ہوتے وقت پاؤں پونچھے جاتے ہیں۔ پھر بعض کہا کرتے ہیں کہ شاہ کابل کے پاس اتنی فوج ہے کہ جس کا مقابلہ دنیا میں کوئی نہیں کر سکتا۔ اور انگریز ڈر کر اس کو روپیہ دیتے ہیں۔ حالانکہ نہیں جانتے کہ کابل ایک چھوٹا سا علاقہ ہے جس کو انگریزوں نے ہی قائم رکھا ہوا ہے۔ اگر ایسے لوگ اسلام کی موجودہ حالت کو قابل اطمینان بتائیں تو بیشک بتائیں مگر جن کو پتہ ہے وہ نہیں کر سکتے وہ تو دیکھتے ہیں کہ اسلام آج کا نہیں تو کل کا مہمان ہے۔ ایسی حالت میں جو اسلام کی ترقی کے سامان ہیں اگر ہم ان کو ضائع کر دیں تو کتنے بڑے افسوس کی بات ہو گی۔ مگر میں دیکھتا ہوں کہ ہمارے ہاں انجمنیں قائم کرتے ہیں اصلاح کے لیے لیے اور کام کرنے کیلئے۔ لیکن ان میں فساد اور جھگڑے کھڑے کر دیتے ہیں۔ کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ کیا بات ہے مسلمانوں کو قرآن میں حکم ہے ۔ وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا کہ اللہ کی جیل کو مضبوط پکڑ لو اور پرا گندہ نہ بنو۔ اللہ تعالیٰ نے حفاظت اسلام کے لیے جو حبل اللہ تجویز کہتے ہیں ان میں سے انبیاء اور ان کے خلفاء بھی ہیں کہ ان کی اطاعت اور فرمانبرداری کرنی چاہتے لیکن کئی لوگ عصیان اور سرکشی کرتے ہیں۔ میں دیکھتا ہوں کہ اطاعت کا نام تو لیتے ہیں، لیکن اطاعت نہیں کرتے۔ معمولی معمولی باتوں پر لڑائی جھگڑے کھڑے کر دیتے ہیں۔ کیا جب جہاز ڈوب رہا ہو تو جہاز کے آدمی آپس میں لڑیں گے ۔ ہرگز نہیں ۔ اس وقت تو خواہ کوئی وئی کسی دوسرے کا روپوں سے بھرا ہوا ہوا بھی اُٹھا لے تو بھی وہ نہیں لڑے گا کیونکہ وہ دیکھنا ہے کہ اگر یہ بٹوا لیتا ہے تو لے لے۔ ابھی چند منٹ میں تو زندگی ختم ہونیوالی ہے۔ پھر لڑائی کیسی ۔ مگر یہاں ایک جہاز نہیں لاکھوں جہاز ڈوب رہے ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ دین کا جہاز ڈوب