خطبات محمود (جلد 6) — Page 56
۵۶ اور افتراق و شقاق کا نام آگ کے کنارے کھڑا ہو نا رکھا ہے جس طرح آگ میں پڑا ہوا انسان ہلاکت سے نہیں بچ سکتا۔ اسی طرح نا اتفاقی کے جو نتائج ہیں ان سے بھی نہیں بچ سکتا ہیں نا اتفاقی کا عذاب ایسا ہی عذاب ہے۔ جیسا کہ آگ میں پڑ جانے کا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ دیکھو ہم نے اتفاق واتحاد اپنے فضل سے پیدا کیا ہے۔ تم خواہ کتنا ہی مال خرچ کرتے تب بھی اتفاق نہیں پیدا کر سکتے تھے۔ لاکھوں دلوں کا جمع کرنا اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہی ہوتا ہے ۔ یہ درست ہے کہ انسانی کوششوں کا بھی اس میں دخل ہوتا ہے لیکن اتفاقی پیدا کرنا انسان کے بس کا نہیں ہوتا ۔ خدا اسے اپنے فضل سے ہی کر دیتا ہے ۔ کیونکہ اسباب اس قدر نہیں ہوتے جس قدر وہ نتائج عطا فرماتا ہے پیس کوشش کے نتیجہ میں اتفاق پیدا نہیں ہوتا ۔ بلکہ فضل کے طور پر اللہ تعالی پیدا کر دیتا ہے جب اس مشکل سے یہ بات حاصل ہوتی ہے۔ تو اس کی بے قدری کتنی بڑی غلطی ہے ۔ جب یہ انسانی کوششوں سے ملتی ہی نہیں بلکہ محض خدا کے فضل سے ہی ہے تو چاہتے کہ اس کے ملنے پر لوگ اس کی قدر کریں۔ مگر نہیں ۔ اس کی ایسی ہی مثال ہے ۔ جیسا کہ غالب نے کہا ہے ۔ اور بازار سے لے آئیں گے گر ٹوٹ گیا جام جم سے مرا جام سفال اچھا ہے کہتا ہے کہ میرا مٹی کا پیالہ ٹوٹ گیا تو اور بازار سے لے آؤں گا۔ کیونکہ اس کا ملنا مشکل نہیں۔ اس اس لیے یہ جام جم سے بہتر ہے۔ کیونکہ اگر وہ ٹوٹ جائے تو اس کا ملنا ناممکن ہے ۔ بات یہ ہے کہ جو جم چیز سنتی یا آسانی سے مل جائے ۔ اس کی قدر نہیں کی جاتی۔ افسوس کہ اتفاق کو ایسا ہی سمجھ کر قدر نہیں کی جاتی۔ حالانکہ جب یہ توڑ دیا جائے پھر اس کا جڑنا ناممکن ہو جاتا ہے ۔ ہاں جب اللہ تعالے چاہتا ہے تو ایک بہت لمبے عرصہ کے بعد اس کے لیے خاص سامان مہیا کرتا ہے ۔ تب جا کر اتفاق پیدا ہوتا ہے ۔ خدا تعالیٰ کی قدیم سے یہ سنت ہے کہ جب اس نے کسی جماعت کو نا اتفاقی سے بچانا ہوتا ہے تو اس میں فساد کرنے والے حصہ کو نکال دیتا ہے۔ جیسا کہ ہماری جماعت میں جب ایک ایسا مغفر پیدا ہو گیا ۔ جو اتفاق و اتحاد کو توڑنے والا تھا ۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس کو جماعت سے نکال دیا۔ اس سے غرض یہ تھی کہ ہم میں پھر نا اتفاقی نہ پیدا ہو مگر با وجود خدا کے اس فضل کے بعض لوگ اس کی قدر نہیں کرتے اور ایسے طریق پر چلتے ہیں جس سے فساد ہو۔ اس زمانہ میں ۔۔۔۔۔۔ سوائے احمدیوں کے اور کوئی جماعت نہیں جس میں مذہب کی خاطر اتفاق ہو