خطبات محمود (جلد 6) — Page 558
۵۵۸ وقت میں مسلمان کہلاتے ہوئے منافق تھے ۔ وہ بھی نہیں کہتے ہیں کہ کیوں ساری دنیا کا مقابلہ کرتے ہو۔ جان جائیگی۔ عزت پر حرف آئے گا۔ میٹ جاؤ گے، لیکن ہم ان کو کہتے ہیںکہ جس وقت ہم نے بعیت کی تھی۔ ہمیں اُسی کی وقت کیا گیا تھا تمہیں لاقت کے پھیلانے کے لیے اپنی ہرایک عزیز سے عزیز چیز کے قربان کرنے کے لیے تیار ہونا ہو گا پس یہ نئی بات نہیں۔ بلکہ ہمیں پہلے سے ہی بتا دی گئی تھی لیس ہم خدا کی راہ میں کسی چیز کی پرواہ نہ کرینگے اور انشاء اللہ ہم نا کام نہ ہونگے۔ بلکہ کامیاب ہونگے۔ کے پس تم خوب یاد رکھو۔ مَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللهُ فَإِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ اللہ پر بھروسہ کرنے والے ہی کامیاب ہوا کرتے ہیں۔ کیونکہ خدا تعالیٰ کا سہارا اتنا مضبوط ہے کہ دنیا کی کوئی طاقت اس کو توڑ نہیں سکتی۔ دیکھو اگر ایک اینٹ آسمان کی طرف پھینکو تو وہ بھی زمین پر آئیگی۔ لیکن ہزاروں من مٹی جو چھت پر ہوتی ہے ۔ زمین سے بلند ٹھری رہتی ہے۔ کیونکہ چھت کے نیچے سہارا مضبوط ہوتا ہے جو اس کو زمین پر گرنے سے بچاتا ہے۔ پیس گو ہم کمزور ہیں، لیکن چونکہ مسیح موعود خدا کی طرف سے تھے اور خدا آپ اور آپ کے ساتھ والوں کے ساتھ ہے۔ اس لیے ہمارا مقابلہ ہمارا نہیں ۔ خدا کا ہے جو شخص ہتھیار پر وار کرتا ہے ۔ وہ وہ ہتھیار کو توڑنا نہیں چاہتا بلکہ شمشیر زن پر حملہ کرتا رتا ہے ہے مگر مگر تلوار تلوار والا والا تلوار کی حفاظت کرتا ہے۔ اسی طرح خدا ہماری حفاظت کر رہا ہے۔ اس لیے ہمیں خطرہ نہیں۔ اگر ڈر ہے۔ تو ان لوگوں کو جو منافق ہیں یا جن کے دل میں مرض ہے یعنی وہ اتنے بیمار ہیں کہ ان کو منافق نہیں کہا جا سکتا۔ اگر ہمیں ایک منٹ کے لیے بھی یہ وہم ہو کہ نہیں دنیا مٹا دیگی ۔ تو ہمیں اپنی فکر کرنا چاہتے اور سیکھنا چاہتے کہ تب ہم منافق ہیں۔ کیونکہ ہم ہلاک تب ہی ہو سکتے ہیں۔ جب مسیح موعود جھوٹے ہوں کہ ہمارا ان پر ایمان ناقص ہو۔ مگر چونکہ وہ جھوٹے نہیں اس لیے ہم بھی اس وقت تک ہلاک نہیں ہو سکتے جب تک ہم میں ستیا ایمان اور حقیقی اخلاص پایا جائیگا ۔ ** پس ہوار خوب یاد رکھو ۔ اللہ تعالیٰ کی طاقت کا مقابلہ کوئی طاقت نہیں کر سکتی رکب صداقت دنیا میں آئی کہ اس کا مقابلہ نہیں کیا گیا۔ اور مقابلہ کرنے والے نا کام نہیں رہے۔ حضرت موسیٰ جس دنیا کی طرف آئیے وہ ان کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی ۔ مگر ان کو مٹا تو نہ سکی ۔ اسی طرح حضرت عیسی بنی اسرائیل کے بارہ قبیلوں کے لیے آئے اور بنی اسرائیل آپ کی مخالفت میں لگ گئے مگر لیلی نا کام نہ رہے اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ساری دنیا کے لیے آئے اور ساری دنیا آپ کی مخالفت میں لگ گئی مگر مخالفین کو کامیابی نصیب نہ ہوئی ۔ کامیاب رسول کریم صلی اللہ علیہ سلم ہی ہوئے۔ اسی طرح اگر حضرت مسیح موعود خدا کی طرف سے ہیں اور یقیناً خدا کی طرف سے ہیں۔ تو ساری دنیا کی مخالفتوں کا نہیں