خطبات محمود (جلد 6) — Page 550
۵۵۰ (1) وہ لوگ جو سچی ضرورت رکھتے ہیں ان کو قرض نہیں مل سکتا ۔ (۲) وہ لوگ جن سے قرض لیتے ہیں آئندہ ان کو نیکی کرنے سے محروم کر دیتے ہیں اور نیز ایسے لوگ دوسرے لوگوں کو بد معاملگی کی تعلیم کرتے ہیں۔ خوب یا د رکھو جس طرح شریعت یہ کہتی ہے کہ دوسروں سے نیکی کرو۔ اس طرح یہ بھی کہتی ہے کہ محسن کے احسان کی قدر کرو۔ اور احسان فراموش نہ بنو۔ جو شخص تم کو ضرورت کے وقت قرضن دنیا ہے وہ تمہارا محسن ہے۔ تم اس کے ساتھ شریفانہ برتاؤ کرو۔ اور جن آنکھوں سے لیا ہے انہی سے دور بعض لوگ جب قرض لے جاتے ہیں۔ تو بہت الحاح سے کام لیتے ہیں۔ مگر جب وہ مانگنے آتا ہے تو اس کو کہتے ہیں ۔ لاٹ صاحب بن گیا۔ ہر وقت سر پر چڑھا رہتا ہے۔ حالانکہ لینے والے کا حق تھا کہ وہ سختی کرے۔ مگر یہاں الٹا معاملہ ہے کہ جب مطالبہ کیا جائے۔ تو اس کو کہتے ہیں کہ یہ ہم پر حکومت کرنے لگا ہے۔ رسول کریم سے کسی غیرمسم شخص نے کچھ لینا تھاوہ آیا۔ او سختی کرنے لگا بعض صحابہ کو با معلم ہوا ۔ آپؐ نے فرمایا کہ میں اس کا مقروض ہوں اس کو حقی ہے کہ سختی کرے لیے تو ضرورت کے وقت جاتے ہیں۔ اور لیتے ہیں لیکن جب ادائیگی کا وقت آتا ہے تو کبھی سامنے نہیں ہوتے اور ہمیشہ آنکھ بچا کر نکل جانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اگر قرض خواہ لوگوں کے پاس کیسے کہ آپ ہی لے دیں۔ تو کہتے ہیں کہ ہم اب نہیں دینگے کیونکہ اس نے تمہیں بدنام کیا ہے۔ گویا وہ اس کے باپ کی جائیداد میں سے کچھ اس سے مانگتا تھا ۔ اس کا حق تھا۔ وہ کیوں نہ طلب کرتا جو شخص ایسے کمینہ کو گالی دیتا ہے وہ حق ہے اگر چہ اخلاق گالی کی اجازت نہیں دیتا۔ کان کو کا نا کہنا ہے مگر اخلاق سے بعید ہے چور کو چور کہنا جائز ہے لیکن مجسٹریٹ کے سوا کوئی نہیں کر سکتا۔ شریعت نے منع کیا ہے کہ گانے کو کھانا کہا جائے۔ اسلئے کہ جو کا نا کہتا ہے وہ اسکو چڑانا چاہتا ہے۔ مگر اس میں شک نہیں کانے کو کان کہنا درست ہے ۔ اس طرح جو شخص کسی کا مال مارتا ہے۔ حقی ہے کہ وہ اس کو چور یا ڈاکو کھے۔ کیونکہ یہ اس عیب کا مرتکب ہوتا ہے بعض لوگوں کا قاعدہ ہوتا ہے کہ قرض لیتے ہیں اور اس سے اپنی جائیداد بناتے ہیں۔ قرض دینے والا اس خیال سے کہ ان کو ضرورت ہے ۔ ان کی ضرورت کو اپنی ضرورت پر مقدم کر کے دے دیتا ہے ، لیکن جب وہ مطالبہ کرتا ہے تو کہتے ہیں کہ دس دن کو آنا ۔ پھر جب جائے تو پھر دس دن توقف کرنے کو کہتے ہیں۔ اس طرح کئی دفعہ ہو چکنے کے بعد انکار کر بیٹھتے له بیقی بروایت مشکواة کتاب الفتن باب في اخلاقہ صلی اللہ علیہ وسلم