خطبات محمود (جلد 6) — Page 549
۵۴۹ میں آج ایک حکم بیان کرتا ہوں ۔ اس کے لیے اسقدر تمہید کی ضرورت تونہ تھی مگر بعض لوگ بعض خاص اعمال میں کچھے ہوتے ہیں۔ مثلاً اموال کا معاملہ ہے ۔ لوگ قدر تا بال کی طرف میں رکھتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ مال سے ہم آرام حاصل کر ینگے۔ اور اس سے ہماری حفاظت ہوگی ۔ مال کو چاہنا اس لیے نہیں ہوتا کہ مال سے ان کو محبت ہوتی ہے بلکہ اس کی غرض یہ ہوتی ہے کہ مال سے وہ آرام کی اشیار جنتیا ہے کرتے ہیں۔ بخیل بھی اسی لیے مال جمع کرتا ہے کہ اس کو اپنے آرام کا خیال ہوتا ہے مگر وہ ہر دفعہ یہ خیال کرتا ہے کہ شاید اس سے بڑی ضرورت پڑ جاتے اس لیے وہ مال خرچ نہیں کرتا ورنہ مال کی ذات سے اس کو محبت نہیں ہوتی ۔ اس کی مثال ایسی ہی ہے کہ کوئی شخص روٹی لیکر سفر کو چلے اور جب بھوک لگے تو کے شاید اس سے زیادہ ضرورت ہو۔ روٹی نہیں کھانی چاہتے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کی مجھوک سے جان نکل جاتی ہے۔ کسی حال بخیل کا ہوتا ہے۔ وہ آئندہ زیادہ ضرورت کے خیال سے کچھ بھی کسی ضرورت پر خرچ نہیں کرتا ،نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کی جان نکل جاتی ہے۔ مال دوسروں کے قبضہ میں جاتا ہے۔ پس مال کا معاملہ یہ ہوتا ہے کہ لوگ اس میں کمزوری دکھاتے ہیں۔ مثلاً چوریاں ہوتی ہیں۔ جو لوگ چوریاں کرتے ہیں۔ اگر وہ خیال کریں کہ اگر ان کے ہاں چوری ہو تو ان کو کتنا صدمہ ہو تو وہ چوری سے باز آئیں ۔ جو لوگ چوری کرتے ہیں جب تک ان کے جواب میں چوری نہیں ہوتی۔ وہ چوری کرتے ہیں۔ پنجاب کے بعض علاقوں میں جانوروں کی چوریاں ہوتی ہیں جن کی چوری ہوتی ہے ۔ وہ چوروں کے جانور چرا لیتے ہیں۔ پھر وہ جاکر ان کے جانور دیدیتے ہیں اور اپنے منتوں کے ساتھ لے لیتے ہیں۔ اس طرح بعض لوگ رات کو کھیتوں میں فصلیں کاٹ لیتے ہیں۔ اسی طرح لوگ ان کی فصلیں کاٹ لیتے ہیں۔ پھر ان کو معلوم ہوتا ہے کہ فائدہ کی بجائے نقصان ہوتا ہے ۔ اسی طرح جو لوگ قرض لیتے ہیں اور پھر دینے میں حیل و حجت کرتے یا سستی کرتے یا مکر جاتے ہیں۔ وہ اپنے دشمن ہوتے ہیں نہ صرف اپنے ملک اپنی قوم کے بھی دشمن ہوتے ہیں۔ جب ان کو ضرورت پڑتی ہے تو گڑ گڑاتے ہیں۔ مگر جب قرض خواہ مطالبہ کرتا ہے تو اس کو آنکھیں دکھاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی بد معاملگی سے ڈر کر وہ لوگ جن کو سیچی ضرورت ہوتی ہے۔ قرض لینے سے محروم رہتے ہیں کیونکہ جس خبر شخص کے پاس وہ قرض لینے جاتے ہیں ۔ وہ ان کی بات کا اعتبار نہیں کر سکتا۔ جبکہ پہلے وہ دیکھ چکا ہوتا ہے کہ فلاں شخص نے اس سے قرض لے کر کیا سلوک کیا ۔ ایسے لوگ دو طرح مضر ہوتے ہیں اور دو بدمعا سے ڈر کروہ لوگ سم کے لوگوں کے لیے مضر ہوتے ہیں۔