خطبات محمود (جلد 6) — Page 547
۴۷ 101 اپنے معاملات صاف کرو فرموده ۱۹ نومبر له ) حضور نے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- میں نے بتایا تھا کہ ایمان کی تکمیل کے لیے بہت ہی تفصیلات ہیں جن کا لحاظ ضروری ہے۔ ان کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہوتا اور انسان وہ فوائد حاصل نہیں کر سکتا۔ جو مذہب کے ذریعہ خدا نیا کو پہنچانا چاہتا ہے۔ اس مضمون کے کچھ حصے بیان کئے تھے اور ایک بات میں اس میں سے آج بیان کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے خود بنی نوع کے نفع کی غرض سے شریعت کے قوانین مقرر فرماتے ہیں۔ اگر کوئی چوری نہیں کرتا ہے تو اس میں خدا کا فائدہ نہیں۔ اگر کرتا ہے تو اس کا نقصان نہیں۔ کوئی قتل کرتا ہے تو اللہ کا نقصان نہیں۔ نہیں کرتا تو فائدہ نہیں۔ وہ اپنی ذات میں کامل ہے۔ انسان پیدا ہوتا یا نہ ہوتا تو اس کی حکومت پر اس کا کچھ اثر نہیں پس جسقدر احکام شرعیہ ہیں ان سب میں انسان کا فائدہ ہے مگر بعض احکام میں انسان کو نفع نظر آتا ہے بعض میں نہیں۔ جب انسانوں کے علم و تجربہ میں فرق ہوتا ہے تو اس وقت بھی بعض باتوں کے فرق بعض کو نظر آتے ہیں۔ بعض کو نہیں ۔ مثلاً بچے ہیں اور ماں باپ میں فرق ہوتا ہے ۔ بچہ کا فرض ہوتا ہے کہ ماں باپ کی بات ہے چون وپیرا مانے ۔ کیونکہ ماں باپ کے احکام تجربہ کی بنا پر ہیں اور بچہ ان حالتوں سے واقف نہیں۔ اگر بچہ انکار کرے۔ تب لوگ اس کو ملامت کرینگے۔ جب بچہ جوان ہوتا ہے تو ماں باپ بھی اس کو پہلے کی طرح احکام نہیں دیتے اور نہ وہ تفصیلات میں اس طرح ماں باپ کے احکام ماننے کے لیے تیار ہوتا ہے تاہم بچہ پر ماں باپ کی اطاعت فرض ہوتی ہے، لیکن ماں باپ کا تجربہ محدود ہے خدا کا محدود نہیں۔ کیونکہ خدا انسان کو پیدا کرنے والا ہے۔ پیدا کرنے والے سے کوئی بات پوشیدہ نہیں ہو سکتی بعض اوقات ماں باپ کا تجربہ غلط بھی ہوتا ہے۔ مثلاً جب چیچک کا ٹیکا نکلا۔ اس وقت عام طور پر لوگوں میں میاں