خطبات محمود (جلد 6) — Page 477
ٹونوں ٹوٹکوں کی طرف تو دوڑتے ہیں مگر کم از کم شاید کہتے ہوئے بھی خُدا کی طرف نہیں آتے ۔ آج مسلمانوں کی جو حالت ہے اس حالت میں اگر وہ خدا پر شاید کہتے ہوتے بھروسہ کرتے تو بھی وہ ہلاکتوں سے بچ جاتے وہ اللہ جس کا قرآن کریم میں ذکر ہے۔ وہ اللہ جس نے محمد رسول اللہ جیبار رسول مبعوث کیا ۔ اور پھر وہ اللہ جس نے اس زمانہ میں اپنا مامور اور نبی بھیجا۔ تاکہ وہ اسلام کی امداد کر ہے ۔ اس کے متعلق اگر ان کو اتنا بھی خیال ہوتا کہ شاید ہاں شاید وہ ہماری مدد کرے تو اللہ تعالیٰ ان کو ضائع ہونے سے بچا لیتا۔ مگر افسوس ان کو اتنا بھی ایمان نہیں جتنا ان کو اپنے وہم پر یقین ہوتا ہے۔ و ہم جس کی کوئی تصدیق نہیں کرتا ۔ اور تمام دانا اس کو حقارت سے دیکھتے ہیں۔ اور اس کے متعلق جاننے اور یقین رکھنے کے باوجود کہ یہ کوئی چیز نہیں۔ پھر اس پر شاید کہتے ہوئے بھروسہ کر لیتے ہیں لیکن وہ جس کی طاقتوں کا مشاہدہ کرتے ہیں جس نے تمام نبیوں کے وقت میں اپنی طاقتوں کا اظہار کیا ۔ اور جس کی طاقت محمد رسول اللہ صل اللہ علیہ آلہ وسلم کے وقت ظاہر ہوئی ۔ اور اولیاء امت اور مجددین کے زمانوں میں جس کی طاقت نے اپنا کام کیا۔ اور اس زمانہ میں مسیح موعود کے ذریعہ جس خدا کی قوتوں کا ظہور ہوا اور ہو رہا ہے۔ ایسے قوتوں اور طاقتوں والے خدا پر وہم جتنا بھی بھروسہ نہیں کرتے ۔ کاش مسلمان شاید کہتے ہوتے ہی اس کی طرف پھرتے کہ دیکھو شاید وہ ہماری مدد کرے۔ ممکن ہے ہماری دستگیری ہو۔ اگر وہ شاید کہتے ہوتے وہم جتنا بھی بھروسہ خدا پر کرتے ۔ تو وہ اتنا کچھ دیکھتے کہ دنیا حیران رہ جاتی ۔ مگر افسوس وہ اتنی بھی توجہ نہیں کرتے ۔ اسلام گھر رہا ہے اسلام سے مراد وہ سوسائٹی ہے جو اپنے آپ کو اسلام کی طرف منسوب کرتی ہے۔ دنیا اس سوسائٹی کو مٹا رہی ہے ۔ ان کو حقارت سے دیکھتی ہے ، لیکن اس کا چارہ کار وہ وہموں سے کرتے ہیں۔ اور خدا سے وہم کی طرح بھی چارہ کار نہیں چاہتے ۔ کاش ! ان کی نظریں بطور گمان کے ہی اس طرف پڑھیں۔ وہ ٹونے ٹوٹکے کی طرح ہی ادھر متوجہ ہوتے مگر کسی کی نظر بالشویکوں کی طرف پڑتی ہے۔ کوئی افغانستان کی طرف دیکھ رہا ہے اور خیال کرتا ہے کہ ادھر سے مدد چلی آرہی ہے کوئی اس وہم میں مبتلا ہے کہ سارے مسلمان اکٹھے ہو کر یورپ کی سلطنتوں کا مقابلہ کرینگے ۔ غرض کسی کی نظر کسی کی طرف جاتی ہے۔ کسی کی کسی طرف ۔ اور اگر نظر کسی کی طرف نہیں جاتی تو وہ خدا ہے ۔ یہ ثبوت ہے اس امر کا کہ آج مسلمانوں کو خدا پر اتنا بھی ایمان نہیں ۔ جتنا ٹونے ٹوٹکے پر ہوتا ہے۔ مگر میں پوچھتا ہوں ۔ ہماری جماعت والے کیا کرتے ہیں ۔ یہ خدا پر ایمان رکھتے ہیں۔ ان کے پاس وہ طاقت ہے۔ مگر یہ فائدہ نہیں اُٹھاتے ۔ جتنا فائدہ اُٹھانے کا حق ہے۔ یورپ کو جو کچھ ملا