خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 440 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 440

81 اعتصام بحبل الله فرموده که رفتی ته) حضور انور نے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا کہ : پیشتر اس کے کہ میں اصلی مضمون شروع کروں۔ قادیان کی کمیٹی کے ممبروں اور دوسرے منتظموں کی توجہ مسجد کی طرف پھرانا چاہتا ہوں۔ ہماری جماعت کی دینی کوششوں کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے۔ اور ہم لوگ لندن میں مسجد بنانا چاہتے ہیں۔ مگر میں کہتا ہوں۔ کیا یہاں کی مسجد اس بات کی مستحق نہیں کہ اس کی طرف توجہ کی جائے ۔ مدت سے سائبان پھٹے ہوتے ہیں اور کافی بھی نہیں ۔ اور آج کل دھوپ میں کھڑا ہونا بہت سفر ہے۔ آتے۔ مضر ہے ۔ آج کہ ابھی لوگ زیادہ نہیں آتے۔ پھر بھی سایہ میں ان کے بیٹھنے کی جگہ نہیں۔ اس کے دو ہی نتیجے ہیں یا تو لوگ دھوپ کے خوف اور بیماری کے ڈر سے مسجد میں آنا چھوڑ دیں ۔ یا آئیں اور دھوپ میں کھڑے لوگ دھوپ کے خوف اور بیماری - ہو کر بیمار ہوں۔ مگر ہم یہ دونوں باتیں نہیں چاہتے۔ نہ یہ چاہتے ہیں کہ لوگ مسجد میں آنا چھوڑ دیں۔ نہ یہ کہ وہ بیمار ہوں پس میں منتظمین کو توجہ دلاتا ہوں کہ اس کا بہت جلد انتظام ہونا چاہتے ۔ تاکہ لوگ آرام ا سے سایہ میں بیٹھ سکیں ۔ اس کے بعد میں اسی مضمون کو شروع کرتا ہوں۔ جو میں نے پچھلے دو تین جمعوں سے شروع کر رکھا ہے میں نے بیان کیا تھا کہ ہماری زبان بلکہ عربی میں بھی جس کو اتفاق کہتے ہیں۔ اس کے لیے قرآن کریم میں اجتماع اور اعتصام کے الفاظ ہیں۔ واقعہ میں اعتصام نام درست ہے۔ کیونکہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں میں کہاں تک میل پیدا ہو سکتا ہے ۔ میں نے بتایا تھا کہ اتفاق اور اتحاد کے وسیع معنے دنیا میں ممکن نہیں ۔ اتحاد و اتفاق کے معنے ہوتے ہیں کہ اقوام کا ہر رنگ میں ایک ہو جانا ، لیکن یہ بعید از عقل ہے ۔ باوجود اس کے اتفاق و اتحاد میں اتنی دلکشی ہے کہ ہر ایک قوم اس کے حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ قرآن کریم نے اعتصام اس کا نام رکھا ہے اور اجتماع بھی رکھا ہے ۔ یہ دونوں باتیں عقلاً محال نہیں۔ اس طرح متفرق مذاق کے لوگوں کا جمع ہونا ۔ یہ آسان ہے، مگر یہ بھی نہیں ہو سکتا۔ جب تک کوئی