خطبات محمود (جلد 6) — Page 342
۳۴۲ لفظوں کا نتیجہ دیکھ لو کہ تیرہ سو برس میں انصار کی کوئی بھی حکومت نہیں ہوئی ۔ حالانکہ انصار وہ لوگ ہیں جن پر حضرت نبی کریم صلی الہ علیہ سلم کو با اعتبار تھا۔ غزوہ حنین میں بعض نوجوانوں نے بڑا بول بولا۔ اور ان میں عجب آگیا ۔ خدا تعالیٰ نے اس موقع پر ان کو تنبیہ کرنی چاہی۔ اور میدان میں ان کا قدم اکھر گیا ۔ حالانکہ مسلمانوں کی تعداد اس وقت بارہ ہزار سے زیادہ تھی اور دشمن کی تعداد دو تین ہزار سے زیادہ نہ تھی۔ اس وقت ایسی حالت ہوئی کہ صحابہ کہتے ہیں کہ نہیں معلوم نہ تھا کہ ہمارے گھوڑے کدھر جا رہے ہیں۔ میدان میں میں اس وقت صرف رسول کریم اور سات آٹھ اور شخص باقی رہ گئے تھے ۔ اس وقت حضرت عباس آگے بڑھے۔ اور انحضرت کے گھوڑے کی باگ کو پکڑ لیا اور کہا کہ حضور اب پلٹ چلیں ۔ اب مقابلہ کا وقت نہیں۔ حضور نے فرمایا کہ خدا کے نبی میدان میں آکر پیچھے نہیں ہٹا کرتے۔ چونکہ حضرت عباس کی آواز بلند تھی ۔ اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کو کہا کہ انصار کو آوانہ دو کہ اسے انصار تمہیں خدا کا رسول بلاتا ہے ایس وقت جبکہ سب فوج تتر بتر ہوگئی تھی۔ آپ مہاجرین کو آواز نہیں دیتے ۔ بلکہ آپ انصار کو پکارتے ہیں۔ حضرت عباس نے آواز دی صحابہ کہتے ہیں کہ ہی ایسا معلوم ہوا کہ گویا صوراسرافیل پھونکا جا رہا ہے اور یہ عباس کی آواز نہیں ۔ بلکہ خدا کی آواز ہے۔ تمام لوگ پلٹ پڑے ۔ اور گھوڑوں اور اونٹوں کو پیچھے پھیرنا شروع کر دیا ،لیکن حالت اس وقت یہ تھی کہ اونٹ مہار کے کھینچنے سے دوہرے ہو ہو جاتے لیکن والپیں نہ پیٹتے آواز دم بدم بلند ہوتی گئی۔ اس پر جو اونٹ اور گھوڑے پھرتے نہ تھے ۔ ان کے سواروں نے تلواریں کھینچ کر ان کی گرد میں اٹھا دیں۔ اور پیدل ہو کر حضور کی طرف آگئے ہے پس اس واقعہ پر ابھی چند دن نہ گزرے تھے کہ وہ واقعہ پیش آیا جس کا ذکر ہوا۔ اور ان چند لفظوں نے کیا تیجہ پیدا کیا؟ چونکہ انصار مومن تھے ۔ اس لیے دنیاوی نتیجہ سے محروم رہے اور خدا نے ان کا ایمان بچالیا، مگر دیکھو انہوں نے کن دقتوں سے یہ رتبہ حاصل کیا تھا۔ اور کھونے میں ذرا بھی دیر نہ لگی۔ پس بہت ہوشیار اور چوکس رہنا چاہیئے۔ کیونکہ برسوں میں حاصل کی ہوئی چیز منٹوں میں ضائع ہو جاتی ہے یاد رکھو۔ خدا کے مقابلہ میں علم کام نہیں آتے ۔ دنیادی اور دینی کہ تنہ بھی کچھ کام نہیں آتے ۔ خاندان کام نہیں آتے۔ غرض خدا کے مقابلہ میں کوئی بڑائی کام نہیں آتی۔ اگر کوئی ان باتوں پر گھمنڈ کرتا ہے تو غلطی کرتا ہے۔ چاہتے کہ اللہ کے حضور میں انکسارہ ہو۔ اور ایمان کی حفاظت کے لیے کوشش اور دُعا ہو ۔ اسمہ تعالیٰ آپ لوگوں کی آنکھیں کھولے۔ اور آپ کو سمجھ دے کیونکہ وہ ایمان جو برسوں میں حاصل ہوتا ہے سیکنڈوں میں ضائع ہو سکتا ہے۔ اگر اس کی حفاظت نہ کی جائے " الفضل یکم دسمبر ته ) ے سیرت ابن ہشام جلد ۲ حالات غزوة حنين (