خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 341 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 341

۳۴۱ کو کہ دیا کہ موسیٰ کے خلاف دعا نہیں ہو سکتی جب بادشاہ کو معلوم ہوا کہ میری کوئی بات کارگر نہیں ہوتی۔ تو اس نے و ہی چال چلی جو آدم کو جنت سے نکلوانے کے لیے شیطان نے چلی تھی۔ کہ حوا کے ذریعہ پھسلایا تھا۔ اسی طرح اس نے بہت سے زیورات وغیرہ تیار کرائے۔ اور موسیٰ کے برخلاف دعا کرانے کے لیے اس بزرگ کی بیوی کو دیئے ۔ اس نے تحریک کی مگر اس بزرگ نے جواب دیا کہ موسیٰ خدا کا مقرب ہے اس لیے اس کے خلاف بد دعا نہیں ہو سکتی میں نے کی تھی۔ مگر وہاں سے جواب مل گیا، لیکن وہ مصر ہوئی اور کہا کہ کیا ضرور ہے کہ اب بھی وہی حالات ہوں ۔ تم بد دعا تو کرو۔ آخر وہ رضامند ہو گیا ۔ اس کو ایک جگہ لے گئے اس نے کہا کہ یہاں سینہ نہیں کھلتا۔ اور اسی طرح دو تین جگہ گیا ۔ آخر چونکہ اسکا ایمان جانا تھا۔ اس نئے بد دعا کی۔ کہتے ہیں کہ جونہی اس نے بد دعا کی موسیٰ کی قوم میں تباہی پڑ گئی۔ کیونکہ اس کے پہلے ایمان کا کچھ تو اثر ہونا تھا۔ اور ادھر اس کا ایمان کبوتر کی شکل میں اُٹھ گیا ۔ بیشک یہ ایک قصہ ہے مگر اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح کبوتر ہاتھ سے نکل جاتا ہے ۔ اسی طرح ایمان اس کے دل سے نکل گیا پیپس چونکہ ایمان محنت سے آتا ہے اور جاتا ایک فقرہ میں ہے ۔ اس لیے ضرورت ہے کہ انسان ہر وقت ہوشیار رہے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ سلم ایک جنگ میں تشریف لے گئے۔ جب کوئے تو غنیمت میں سے حضور نے مهاجرین کوکسی قدر حال زیادہ دیا ۔ اور اس پر انصار کے ایک گروہ میں سے کسی نے کہہ دیا کہ خون تو انک بیماری تلواروں سے ٹپک رہا ہے، لیکن مال لے گئے مہاجرین اس مجمع میں انصار میں سے ایک دو شخص بھی بیٹھے تھے جنہوں نے حضور کی صحبت اُٹھائی تھی۔ وہ حضور کے پاس گئے اور خبر دی کہ ایک مجمع میں انیسی گفتگو ہوتی ہے۔ بعض لوگوں کا قاعدہ ہوتا ہے کہ جب ان کے عزیز سے کوئی غلطی ہو تو وہ اس پر پردہ ڈالا کرتے ہیں۔ مگر انہوں نے ایسا نہ کیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو بلایا ۔ اور کہا کہ میں نے اس قسم کی خبر سنی ہے۔ کیا یہ درست ہے۔ انہوں نے کہا کہ بے شک درست ہے۔ مگر یہ کہنے والے بڑے لوگ نہیں بچھے ہیں۔ حضور نے ان کو مخاطب کر کے فرمایا کہ اسے انصار تم کہہ سکتے تھے کہ یہ گھر سے نکالا ہوا اکیلا آیا۔ ہم نے اس کا ساتھ دیا اور اس وقت ساتھ دیا۔ جب اس کے وطن والے اس کے دشمن تھے۔ پھر ہم نے اس کے دشمنوں کو زیر کیا ۔ اب جب یہ فتح یاب ہوا تو اس نے اپنے بھائیوں کو مال دیدیا۔ اور ہمیں کچھ نہ دیا۔ پھر فرمایا مگر اس کے مقابلہ مں تم یہ بھی کہ سکتے ہو کہ ایک جنگ جس سے مہاجرین تو مال و اسباب اور اونٹ وغیرہ لیکر گھروں کو گئے ۔ اور مدینہ والے اللہ کے رسول کو ساتھ لے گئے دیگر اب جو الفاظ تمہارے منہ سے نکلے ہیں ۔ ان کا تم ا نتیجہ کم سن لو کہ دنیا میں تمہارے لیے کوئی عزت نہیں حوض کوثر پر ہی آکر مجھ سے مطالبہ کرنا۔ چنانچہ ان بخاری کتاب مناقب الانصار