خطبات محمود (جلد 6) — Page 333
٣٣٣ 62 دین کو دنیا پر مقدم کرو فرموده ۳۱ اکتوبر ۱۹ ه ) حضور نے تشد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- ہر زمانہ کے لیے کچھ ابتلاء ہوتے ہیں۔ جن کی برداشت کئے بغیر اور جن کے نازل ہوتے بغیر اور پھر جن میں سے اپنے ایمان کو سلامت نکالنے کے بغیر کامیابی نہیں ہو سکتی۔ کسی زمانہ میں کوئی ابتلا ہوتا ہے ۔ اور کسی میں کوئی - متفرق طور پر متفرق ابتلاء آتے ہیں کبھی ایسے کہ مثلاً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اپنے ملک میں فتنہ پڑا کبھی ایسے جیسا کہ مسیح ناصری کے زمانہ میں ہوا کہ ایک قوم میں رہتے شت ہوتے اس سے جدائی اختیار کرنی پڑی کبھی حضرت موسی کے زمانہ کی طرح کہ حکومت کے مظالم کو بردران کرنا پڑتا ہے۔ اور کبھی رعایا کے اعتراضات حکومت پر کرنے کا فتنہ ہوتا ہے ۔ جیسا کہ حضرت داؤد اور حضرت سلیمان کے وقت میں ہوا، لیکن ایک ابتلاء اس قسم کا ہے کہ وہ ہر نبی کے وقت میں آیا ہے۔ اور میں اب بھی جب کبھی دنیا : میں کوئی تغیر ہوگا ۔ ابتلا ء پیش آئیگا ۔ وہ انتبلا۔ دین اور اور دنیا دنیا کا کا مقا مقابلہ ہے یعنی دنیا کے مقابلہ میں دین کو مقدم کرنا ۔ یہ ابتلاء ہر نبی کے زمانہ میں آیا ہے ۔ حضرت موسی کے وقت میں یہ ابتلاء آیا۔ حضرت داود و حضرت سلیمان کے وقت میں یہ ابتلاء آیا۔ حضرت عیسی کے وقت میں یہ ابتلا آیا اور بالآخر ہمار سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وقت میں بھی یہی ابتلاء پیش آیا۔ پس یہ ابتلا ۔ ہرنی کے وقت میں آتا ہے کہ دین کو دنیا پر مقدم کرو۔ ایک طرف دنیا کی خوبصورتی اور محبوبیت ہوتی ہے اور وہ نقدر یہ نقد محبوب نظر آتی ہے مگر اس کے مقابلہ میں، دین ہوتا ہے اور دین کی خاطر اس کو ترک کرنا پڑتا ہے۔ یہ بڑی آزمائش ہوتی ہے مگر جب تک ایک انسان اس میں سے نہ گزرے ۔ وہ خدا کے پیاروں میں داخل نہیں ہو سکتا۔ اسلام اس بات کی تعلیم نہیں دیتا کہ دنیا کو کل طور پر چھوڑ دیا جائے۔ یہ تو ایک بدعت ہے ۔ دیتا حضرت مسیح کی طرف اس تعلیم کو منسوب کیا جاتا ہے کہ تم جب دولت کو چھوڑو گے ۔ تو خدا کو پاؤ گے۔